مریضِ عشقِ رسول ہوں مجھے اور کوئی دوا نہ دو

مریضِ عشقِ رسول ہوں مجھے اور کوئی دوا نہ دو

یہی نام میرا علاج ہے یہی نام لیتے رہا کرو

 

مرے ہم سخن مرے ساتھیو مرے مونسو مرے وارثو

تمہیں مجھ سے اتنا ہی پیار ہے مرے ساتھ صلِ علیٰ پڑھو

 

کوئی چھیڑو قصے حضور کے گریں بت زمیں پہ غرور کے

کھلیں باب عقل و شعور کے دل مضطرب کو قرار ہو

 

مری زندگی بھی ہو زندگی مری شاعری بھی ہو شاعری

کھلے دل کے شہر میں چاندنی درِ مصطفےٰ پہ چلیں چلو

 

مری چشمِ ناز کا نور وہ مری نبضِ جاں کا سرور وہ

نہیں پل بھی مجھ سے ہیں دور و ہ مری دھڑکنوں کی صدا سنو

 

وہ خدا کا عکسِ جمال ہیں وہی رشکِ اوج کمال ہیں

وہ تو آپ اپنی مثال ہیں کوئی تم نہ ان کی مثال دو

 

جسے ان کی ایک جھلک ملی وہ ہر ایک غم سے ہوا بری

اسے آس اس طرح چپ لگی کہ نہ جیسے منہ میں زبان ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ