مریضِ عشق کو سرکارؐ کا دیدار ہو جائے

مریضِ عشق کو سرکارؐ کا دیدار ہو جائے

شفا سے بہرہ ور وہ لادوا بیمار ہو جائے

مؤدب سرنگوں ہے جو ظفرؔ سرکارؐ کے در پر

عجب کیا وہ بھی اِک دن صاحبِ اسرار ہو جائے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مولیٰ گلبن رحمت زہرا سبطین اس کی کلیاں پھول
ذرہ کرے خورشید کی مدحت تو عجب کیا
برسائے وہ آزادہ روی نے جھالے
اُنؐ کی را ہوں میں کہکشاں دیکھوں
درِ سرکارؐ تک رسائی ہو
ہر گھڑی ذکر مصطفیٰؐ کرنا
وہی سردارِ جُملہ مُرسلاں ہیں
مرے سرکارؐ ختم المُرسلیںؐ ہیں
بھاگ جگے گا ہم بھی مدینے جائیں گے ان شاءاللہ
’’شرک ٹھہرے جس میں تعظیمِ حبیب‘‘