اردوئے معلیٰ

مریضِ عشق کو سرکار کا دیدار ہو جائے

مریضِ عشق کو سرکار کا دیدار ہو جائے

شفا سے بہرہ ور وہ لادوا بیمار ہو جائے

مؤدب سرنگوں ہے جو ظفرؔ سرکار کے در پر

عجب کیا وہ بھی اِک دن صاحبِ اسرار ہو جائے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ