اردوئے معلیٰ

Search

مری اس کیفیت پر میرے مرشد کی گواہی ہے

جہانِ نعت میں رہنا ثبوتِ بے گناہی ہے

 

نہ مانے اس حقیقت کو جو اس کی کم نگاہی ہے

کہ عرفان شہ کونین عرفان الٰہی ہے

 

مسلسل آسماں سے قدسیوں کا کارواں اترے

یہ دربار شہ ہر دوسرا کی عز و جاہی ہے

 

تمہاری سلطنت ہے ساری دنیا اور عقبیٰ میں

یہاں بھی سربراہی ہے وہاں بھی سربراہی ہے

 

پڑے گی اک نظر ان کی تو مٹ جائے گی اک پل میں

ہمارے نامۂ اعمال کی جتنی سیاہی ہے

 

نگاہِ آسماں جھک جھک کے چومے نقش پا جس کے

مسافر ہے وہ طیبہ کا ، مدینے کا وہ راہی ہے

 

سریر دل پہ جس کے جلوہ گر ہوں سید والا

حقیقت ہے جہاں بھر میں اسی کی بادشاہی ہے

 

تمہارا ذکر خشک و تر میں بھی ہے بحر و بر میں بھی

تمہاری مدح خوانی درمیان مور و ماہی ہے

 

ہلا دیتا ہے اک ٹھوکر سے ہر ایوان باطل کو

مرے سرکار کے لشکر کا جو ادنیٰ سپاہی ہے

 

نزاکت بارگاہ سید عالم کی مت پوچھو

یہاں کی ایک گستاخی سے ایماں کی تباہی ہے

 

چلے آؤ بس اک پل کو سر بالیں مرے آقا

تمہارا اک مریض غم چراغ صبح گاہی ہے

 

مٹا کر نورؔ خود کو ان کے قدموں میں فنا ہو جا

یہ دستور محبت ہے یہ رسم خانقاہی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ