مری جاں سے قریں میرا خُدا ہے

مری جاں سے قریں میرا خُدا ہے

مرے دل میں جمالِ مصطفیؐ ہے

 

خُدا کی حمد کا، نعتِ نبیؐ کا

یہی بس ایک میرا مشغلہ ہے

 

مزیّن آپؐ کے نقشِ قدم سے

ہے یہ عرشِ بریں یا دل مرا ہے

 

میں اُنؐ کے دلکشا فرمان لکھوں

خُدا جن کی زباں سے بولتا ہے

 

زیارت خواب میں جب آپؐ کی ہو

لرزتا ہے بدن، دل کانپتا ہے

 

نظر سوئے حرم، دل سوئے طیبہ

پیاپے کشمکش کا مرحلہ ہے

 

ظفرؔ! حُبِ خُدا، عشقِ نبیؐ کا

بڑا مربوط باہم سلسلہ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے
سرکا رکے جلووں سے معمور نظر رکھئیے
نعت کہنا مری قسمت کرنا
لے چلا مجھ کو طالعِ بیدار
جب بھی نگاہ کی ہے کِسی پر حضور نے
چلے زمِین سے جب آپ لامکاں کے لئے
حسن تمام و لطف سراپا تمہی تو ہو
پائندہ تیرا نور اے شمع حرم رہے
نعلین گاہِ شاہ سے لف کر دیئے گئے
شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر

اشتہارات