مری زبان پہ ان کی ہے گفتگو اب تک

مری زبان پہ ان کی ہے گفتگو اب تک

اسی سبب ہے مری ذات سرخرو اب تک

 

نبی کی نعت نے رکھی ہے آبرو اب تک

ہمیشہ نعت کہوں یہ ہے آرزو اب تک

 

خدا نے رکھا رفعنا کا تاج جن کے سر

انہیں کا ذکر ہے ہر لمحہ چار سو اب تک

 

بلائیں گے مجھے اک روز آپ طیبہ میں

حضور ہے مرے دل میں یہ آرزو اب تک

 

جہاں پہ جھکتے ہیں شاہ و گدا سبھی زاہدؔ

اسی دیار کی رہتی ہے جستجو اب تک

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مرے سرور مدینہ ترا نام چل رہا ہے
اے شاہِ امم، سیّدِ ابرار یا نبیؐ
جب آقا سے میری ملاقات ہو گی
شعبِ احساس میں ہے نور فِشاں گنبدِ سبز
مبتدا کی دید کرتے ، منتہیٰ کو دیکھتے
احسان ہے خدائے علیم و خبیر کا
نہ صرف یہ کہ پیمبر بنا کے بھیجے گئے
میں رہوں نغمہ طرازِ شہِ دیں حینِ حیات
غنچۂ لب مسکرائے مصطفیٰ کے نام سے
کم ہے محیطِ فکر اور تنگ ہے ظرفِ آگہی

اشتہارات