اردوئے معلیٰ

Search

مری شاکی ہے خود میری فغاں تک

کہ تالو سے نہیں لگتی زباں تک

 

کوئی حسرت ہی لے آئے منا کر

مرے روٹھے ہوئے دل کو یہاں تک

 

جگہ کیا درد کی بھی چھین لے گا

جگر کا داغ پھیلے گا کہاں تک

 

اثر نالوں میں جو تھا وہ بھی کھویا

بہت پچھتائے جا کر آسماں تک

 

فلک تیرے جگر کے داغ ہیں ہم

مٹائے جا مٹانا ہے جہاں تک

 

وہ کیا پہلو میں بیٹھے اٹھ گئے کیا

نہ لیں جلدی میں دو اک چٹکیاں تک

 

کوئی مانگے تو آ کر منتظر ہے

لیے تھوڑی سی جان اک نیم جاں تک

 

اٹھانے سے اجل کے میں نہ اٹھتا

وہ آتے تو کبھی مجھ ناتواں تک

 

جلالؔ نالہ کش چپکا نہ ہوگا

وہ دے کر دیکھ لیں منہ میں زباں تک

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ