اردوئے معلیٰ

Search

مری کہانی میں کردار بھی اسی کا تھا

سہا جو میں نے وہ آزار بھی اسی کا تھا

 

وہ جس کو ہونے کا احساس بھی دیا ہم نے

ہماری ذات سے انکار بھی اسی کا تھا

 

وہ ایک عہد بھی ہم سے وفا نہ کر پایا

مگر یہ دل کہ وفا دار بھی اسی کا تھا

 

بچھڑ گیا ہے تو اب دھوپ بھی ستاتی ہے

کھلا کہ سایہ ء دیوار بھی اسی کا تھا

 

گزر گئے یونہی محروم ِ مدعا ہم لوگ

گلی بھی اس کی تھی بازار بھی اسی کا تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ