مرے آقاؐ کرم یہ فرمائیں

 

مرے آقاؐ کرم یہ فرمائیں

اِک جھلک خواب ہی میں دکھلائیں

 

جو مدینہ پہنچ نہیں پاتے

دیدہ و دِل میں اُن کے آ جائیں

 

ہجر میں جن کی عمر گزری ہے

اُن کو در پر حضورؐ بلوائیں

 

سبز گنبد کی ٹھنڈی چھاؤں میں

تشنہ لب، تشنہ کام سستائیں

 

نعمتیں جو نہ دسترس میں ہوں

آپؐ کے در سے نعمتیں پائیں

 

اُنؐ کی چاہت کے اُن کی نسبت کے

مرے گھر پر عَلَم وہ لہرائیں

 

میرا گھر کیوں نہ رشکِ جنت ہو

میرے گھر میں ظفرؔ جو آپؐ آئیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا
ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت اُن کی
خُدا کا خانہ کعبہ دِل کُشا ہے
سمندر آپؐ ہیں فیض و عطا کا
آپؐ قدموں میں جب بٹھاتے ہیں
یا نبیؐ آپؐ کو پُکارا ہے