اردوئے معلیٰ

مرے خدا مجھے وہ طرز خوشنوائی دے

کہ روم روم سے مدح نبی سنائی دے

 

اسی جوار کرم میں مجھے بھی رہنا ہے

جہاں سے روضۂ خیرالوریٰ دکھائی دے

 

نبی کے اسوۂ کامل پہ کاربند رہوں

نبی کے نقش کف پا کی رہنمائی دے

 

متاعِ جاہ و حشم کی نہیں طلب مجھ کو

دیار سرور کونین کی گدائی دے

 

یہ سر تو خم ہے تری بارگاہِ عظمت میں

دل و نگاہ کو بھی شوقِ جبہ سائی دے

 

سکوتِ شب میں جو تجھ کو صدائیں دیتے ہیں

رفیق اُن کا بنا اُن کی ہم نوائی دے

 

نفس نفس تری یادوں کا سلسلہ پاؤں

قدم قدم ترا جلوہ مجھے دکھائی دے

 

مرے حسین کی بے لوث زندگی کے طفیل

مرے خدا مجھے توفیق بے ریائی دے

 

نصیب ہو تری امداد نورؔ کو یارب

ترے حبیب کی جس وقت بھی دہائی دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات