مرے دل میں یونہی تڑپ رہے مری آنکھ میں یونہی نم رہے

مرے دل میں یونہی تڑپ رہے مری آنکھ میں یونہی نم رہے

مری ہر نگارشِ شوق پر اے کریم تیرا کرم رہے

 

میں لکھوں جو نعت حضورؐ کی دلِ مضطرب کے سرور کی

کبھی چشم ناز بلند ہو کبھی سر نیاز سے خم رہے

 

مری سانس سانس مہک اٹھے مجھے روشنی سی دکھائی دے

میرا حرف حرف دعا بنے مری آہ آہ قلم رہے

 

یہ یقین ہے جو میں مر گیا تو کہیں گے سب یہ ملائکہ

یہ ہے شاعرِ شاہِ دوسرا ذرا اس کا پاس، بھرم رہے

 

یہ دعا ہے آسؔ حضورؐ کا کبھی دل سے پیار نہ ہو جدا

مری زندگی کی جبین پر سدا ان کا نام رقم رہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ضیائے سدرہ و طوبیٰ و کل جہاں روشن
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
زمیں سے تا بہ فلک ایسا رہنما نہ ملا
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
ہوئے جو مستنیر اس نقشِ پا سے
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
بس قتیلِ لذتِ گفتار ہیں
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

اشتہارات