مرے دل میں یونہی تڑپ رہے مری آنکھ میں یونہی نم رہے

مرے دل میں یونہی تڑپ رہے مری آنکھ میں یونہی نم رہے

مری ہر نگارشِ شوق پر اے کریم تیرا کرم رہے

 

میں لکھوں جو نعت حضور کی دلِ مضطرب کے سرور کی

کبھی چشم ناز بلند ہو کبھی سر نیاز سے خم رہے

 

مری سانس سانس مہک اٹھے مجھے روشنی سی دکھائی دے

میرا حرف حرف دعا بنے مری آہ آہ قلم رہے

 

یہ یقین ہے جو میں مر گیا تو کہیں گے سب یہ ملائکہ

یہ ہے شاعرِ شاہِ دوسرا ذرا اس کا پاس، بھرم رہے

 

یہ دعا ہے آسؔ حضور کا کبھی دل سے پیار نہ ہو جدا

مری زندگی کی جبین پر سدا ان کا نام رقم رہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ