اردوئے معلیٰ

Search

مرے رسول کہ نسبت تجھے اجالوں سے

میں تیرا ذکر کروں صبح کے حوالوں سے

 

نہ میری نعت کی محتاج ذات ہے تیری

نہ تیری مدح ہے ممکن مرے خیالوں سے

 

تُو روشنی کا پیمبر ہے اور مری تاریخ

بھری پڑی ہے شبِ ظلم کی مثالوں سے

 

ترا پیام محبت تھا اور میرے یہاں

دل و دماغ ہیں پُر نفرتوں کے جالوں سے

 

یہ افتخار ہے تیرا کہ میرے عرش مقام

تو ہمکلام رہا ہے زمین والوں سے

 

مگر یہ مفتی و واعظ یہ محتسب یہ فقیہہ

جو معتبر ہیں فقط مصلحت کی چالوں سے

 

خدا کے نام کو بیچیں مگر خدا نہ کرے

اثر پذیر ہوں خلقِ خدا کے نالوں سے

 

نہ میری آنکھ میں کاجل نہ مُشکبُو ہے لباس

کہ میرے دل کا ہے رشتہ خراب حالوں سے

 

ہے تُرش رو مری باتوں سے صاحبِ منبر

خطیبِ شہر ہے برہم مرے سوالوں سے

 

مرے ضمیر نے قابیل کو نہیں بخشا

میں کیسے صلح کروں قتل کرنے والوں سے

 

میں بے بساط سا شاعر ہوں پر کرم تیرا

کہ باشرف ہوں قبا و کلاہ والوں سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ