مرے رہنما نے کیا کیا نہیں معجزے دکھائے

مرے رہنما نے کیا کیا نہیں معجزے دکھائے

کہیں سنگ ریزے بولے کہیں پیڑ چل کے آئے

 

دنیائے خود غرض نےکیا کیا نہ ظلم ڈھائے

پھر بھی مرے نبی ﷺ نے دستِ دُعا اٹھائے

 

اس بزمِ مصطفیﷺ میں جو خلوصِ دل سے آئے

پروانہ شفاعت ہمراہ لے کے جائے

 

دو اور معجزے بھی میں سپردِ نعت کر دوں

کبھی چاند کاٹ ڈالا کبھی شمس موڑ لائے

 

کبھی چل سکا نہ تنہا یہ کرم نہیں تو کیا ہے

مرے ساتھ چل رہے ہیں تری رحمتوں کے سائے

 

تری صبحِ نُور افشاں گل حمد چنتے دے کھوں

تری رات چاندنی بھی کوئی نعت گنگنائے

 

تیرے رخ سے نور لے کے ہوئے مہرو ماہ روشن

تیری مسکراہٹوں سے ہیں ستارے جگمگائے

 

میں کہاں کا ہوں ثنا گو یونہی بات بن گئی ہے

تیری بندہ پروری نے مرے حوصلے بڑھائے

 

تری پردہ پوشیوں پر مرے جان و دل تصدق

مری بات بھی بنائی مرے عیب بھی چھپائے

 

تری نعت کی بدولت مجھے منزلیں ملی ہیں

کئی موڑ پرُ ہوس بھی میرے راستے میں آئے

 

میں گدائے مصطفی ﷺ ہوں مجھے کوئی غم نہیں ہے

مجھے کیا کہے گی دنیا مجھے کوئی کیا ستائے

 

سرِ حشر کاش آقا ﷺ مجھے حکم یہ سنائیں

میرے پاس آکے بسمل کوئی نعت گنگنائے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حسرت سے کھُلے گا نہ حکایت سے کھُلے گا
قربان مقدر پہ ترے وادیٔ ایمن
اذنِ ثنا ہُوا ہے نگہدارِ حرف سے
جب اپنے نامۂ اعمال پر مجھ کو ندامت ہو
بختِ خفتہ کے سبھی جڑ سے ہی کٹ جائیں درخت
جمال و حسن کا طُغریٰ ہے آپ کی چوکھٹ
تو روحِ کائنات ہے تو حسن کائنات
زندگی ملی حضور سے
عشقِ احمد سے قرینہ آ گیا
انجامِ التجا، شبِ غم کی سحر پہ ہو