اردوئے معلیٰ

Search

مرے گھر کا جو دروازہ کھلا ہے

کرم اُن کا ہے یہ اُن کی عطا ہے

 

سراپا خیر ہے، نورِ مجسم

مرا خیر الوریٰ نور الہدیٰ ہے

 

وہ آیا پُرسکوں مسرور واپس

جو اُن کے در پہ آزردہ گیا ہے

 

ہوئی نہ آپ کی جس کو زیارت

وہ عاشق زار سمجھو مر گیا ہے

 

وہی ممتاز، یکتا، منفرد ہیں

نہیں کوئی بھی اُن سا دُوسرا ہے

 

مری سرکار کا وہ دورِ مدنی

مبارک، وہ زمانہ آ رہا ہے

 

ہے مستقبل کا دور اِسلام ہی کا

ظفرؔ تو بے وجہ گھبرا رہا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ