مرے گھر کا جو دروازہ کھلا ہے

مرے گھر کا جو دروازہ کھلا ہے

کرم اُنؐ کا ہے یہ اُنؐ کی عطا ہے

 

سراپا خیر ہے، نورِ مجسم

مرا خیر الوریٰؐ نور الہدیٰؐ ہے

 

وہ آیا پُرسکوں مسرور واپس

جو اُنؐ کے در پہ آزردہ گیا ہے

 

ہوئی نہ آپؐ کی جس کو زیارت

وہ عاشق زار سمجھو مر گیا ہے

 

وہی ممتاز، یکتا، منفرد ہیں

نہیں کوئی بھی اُنؐ سا دُوسرا ہے

 

مری سرکارؐ کا وہ دورِ مدنی

مبارک، وہ زمانہ آ رہا ہے

 

ہے مستقبل کا دور اِسلام ہی کا

ظفرؔ تو بے وجہ گھبرا رہا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شمس الضحیٰ سا چہرہ قرآن کہہ رہا ہے
اسوۂ کاملہ مرحبا مرحبا
ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
ہیں آپ سرورِ کونین یارسول اللہؐ
شوق و نیاز عجز کے سانچے میں ڈھل کے آ
اے مرکز و منبعِ جود و کرمؐ ، اے میرؐ اُممؐ
ہوگی کب خدمت سرکار میں میری طلبی
ہادیؐ و رہبرؐ سرورِ عالمؐ
جادہء مدینہ ہے اور کارواں اپنا
حضور نعت کا مصرع کوئی عطا کردیں

اشتہارات