مسلماں اپنے آقا ﷺ کی اگر سیرت کو اپنا لے

مسلماں اپنے آقا ﷺ کی اگر سیرت کو اپنا لے

اور اس دنیا پہ ہو جائے جمالِ پیروی ظاہر

سلوک اخلاص پر مبنی ہو جب ہر اک مسلماں کا

تو ایماں کی طرف دوڑے زمانے بھر کا ہر کافر

عمل کا بیج بویا جائے جب کشتِ عقیدت میں

تو کیسے رہ سکے کوئی زمینِ شور بھی عاقر

مرے آقا ﷺ کی سیرت ہی دلوں پرحکمراں ٹھہرے

عقیدت کا اگر ہو جـذبۂ تقلید بھی ناصر

دلوں کو فتح کر لینے کا یہ واحد طریقہ ہے

کہ یہ اُمت مٹا دے تفرقے اللہ کی خاطر

یقینا پھر تو یہ اُمت زمانے بھر پہ چھا جائے

سراپا خیر کے ہوں فیصلے اس کے لیے صادر

 

تمام عصیاں مٹا دے نامۂ اعمال سے خالق

اسی اُمت پہ ہو جائے کرم اللہ کا وافر

فقط توبہ کا باقی ہے سہارا اس پہ مائل ہو

فلاحِ اجتماعی کا یہی ہے نسخۂ نادر

محمد ﷺ کی غلامی شرطِ فتحِ بابِ رحمت ہے

زبانِ فعل سے گر ہو نہ کوئی اُمَّتِی منکر

یقینا پھر یہی اُمت بلندی پائے گی اک دن

کمال اس کو مُیَسَّر ہو گا دنیا میں یقینا پھر

زمانہ آج اس اُمت کی پستی پر جو ہنستا ہے

اسی اُمت کی رفعت کا بھی ہو گا ایک دن ناظر

 

نسخۂ تسخیرِ قلوب!:ہفتہ : ۲۰؍شوال ۱۴۳۳ھ… مطابق: ۸؍ستمبر ۲۰۱۲ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی ﷺ
ایمان ہے قالِ مصطفائی
یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
عالم کی ابتدا بھی ہے تو ، انتہا بھی تو
مطافِ کعبہ اقدس میں نعتِ مصطفےٰؐ مانگوں
ہر صبح ہے نورِ رُخِ زیبائے محمدﷺ
کتنا بڑا ہے مجھ پہ یہ احسانِ مصطفٰے
باعثِ سکونِ دل کا، محمدﷺ کا نام ہے
سلام اس ذات اقدس پر، سلام اس فخر دوراں پر
ہے وہی کنجِ قفس اوروہی بے بال وپری