اردوئے معلیٰ

Search

 

مشکِ جاں ساز رگِ جاں میں بسا ہووے ہے

جب مرے لب پہ محمد کی ثنا ہووے ہے

 

میرے پہلو مرے سینے میں دھڑکنے والا

اب درِ سیدِ عالم پہ جھکا ہووے ہے

 

کون روتا ہے مدینے کی حضوری کے لئے

واقفِ رازِ نہاں دیکھ رہا ہووے ہے

 

میں سجاتا ہوں مدینے کی ضیا آنکھوں میں

ظلمتِ شب مری آنکھوں سے خفا ہووے ہے

 

دھوپ بہروپ گھنے سائے کا بھر لیتی ہے

جب تصور میں مزمل کی ردا ہووے ہے

 

واپسی شہرِ مدینہ سے ہوئی ہے ایسے

جیسے ماہی کا بدن جل سے جدا ہووے ہے

 

قلبِ اشفاقؔ میں روشن ہے تمنائے نبی

اور ہونٹوں پہ مدینے کی دعا ہووے ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ