مشہور شاعر اور صحافی ظہور نظر کا یوم وفات

آج اردو کے نامور ترقی پسند شاعر اور صحافی ظہور نظر کا یوم وفات ہے۔

ظہور نظر 22 اگست 1923ء کو بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ اصل نام ظہور احمد تھا۔ صحافت سے وابستہ رہے۔ مختلف فلموں کے لئے نغمے لکھے۔ ترقی پسند فکر کا پرچار کیا۔ بہاولپور کا یہ روشن ستارہ 7 ستمبر 1981ء کو بجھ گیا۔
غم کی آگ میں جلنے والے ، ہر دکھ چُپ چُپ سہنے والے، نظمیں غزلیں کہنے والے ، ترقی پسند اور پرُامن شہر بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ادیب اور شاعر ظہور نظر 7 ستمبر 1981ء کو پیوند خاک ہوئے۔اقبال ، فیض اور منیر کے بعد وہ ایک ایسے شاعر ہیں، جنہوں نے بیک وقت نظم اور غز ل میں مقدار و معیار کے لحاظ سے اُردو ادب میں نمایاں ترین اضا فے کیے بالخصوص نظم نگاری کے میدان میں اسلوب اور تکنیک کے اعتبارسے وہ ایک ممتاز ترین مقام کے حامل ہیں۔
’’ریزہ ریزہ‘‘ ان کی نظموں کا مجموعہ ہے، جس میں آزاد اور پابند نظم کا ایک اورمنفرد امتزاج موجود ہے، جس کو کوئی مخصوص نام نہیں دیا جا سکتا۔ بقول احمد ندیم قاسمی ’’ ظہور نظر نے جو نظم کہی و ہ تصدق حسین خالد ، میرا جی اور ن م راشد کے برعکس ایک بالکل الگ صنف ہے ۔ اگر ہمارے ہاں آزاد نظم کو زندہ رہنا ہے، تو اسے ظہور نظر کا سلیقہ اختیار کرنا ہوگا‘‘۔
ریزہ ریزہ میں شامل سرگوشی، میں نادم ہوں ، محنت کش، آخری ملاقات ، یہ جنگل کون کاٹے گا اور یہ جبر کی کون سی منزل ہے ایسی نظمیں ہیں، جن میں شاعر کا فن بلندیوں کو چُھورہا ہے۔ ظہور نظر عام اور زبانی قسم کے ترقی پسند شاعر نہیں۔ انہوں نے حمید اختر ، م حسن لطیفی اور ساحر لدھیانوی کی رفاقت میں اس فکر کو نہ صرف اپنا نظریہ فن بنایا بلکہ آخری دم تک اس ترقی پسند فکر کے عملی مبلغ بھی رہے ۔ حمید اختر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کرشن چندرکے معروف افسانے ’’ ان داتا‘‘ کو سٹیج کرنے کا خیال سوجھا ،تو ظہور نظر نے اس میں بھر پور اورکلیدی کردار اد ا کیا ۔
ان کا دوسرا مجموعہ کلا م’’ وفا کاسفر ‘‘ کے نام سے 1986ء میں شائع ہوا، جس میں نظموں کے ساتھ ساتھ 78 غزلیات بھی شامل ہیں ۔
اُردوشاعری کو ایسے نادر نمونے / فن پارے دینے والے شاعر کوزندگی بھر سخت جدوجہد کا سامنا رہا ۔ زندگی کی سختی اور تلخی کو سہنا پڑا ۔ فکری اور عملی طور پر ان کی زندگی کامیاب جدوجہد سے عبارت ہے ۔ انہوں نے ہمیشہ ترقی پسندانہ اور مثبت رویوں کو پروان چڑھانے میں اپنا خون جگر صرف کیا ۔ فروغ صبح چمن میں ایک کُل وقتی ترقی پسند شاعر کا کردار ادا کیا ۔
اہل ِ شہر کی طرف سے کم وبیش اسی قسم کی ناقدری ، سفاکی اور بے حسی اس ظہور نظر کے ساتھ برتی گئی ،جو بہاولپور کی پہچان تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس روشن فکر شاعر کی اعزاز کے ساتھ تدفین کی جاتی، مگر افسوس صد افسوس کہ نمازِ جنازہ کے وقت اورمقام کا اعلان ہونے سے قبل اُن کے کافر اور ملحد ہونے کے اعلانات کیے گئے اور اہل ِ شہر کو ان کی نمازِ جنازہ ادا کرنے سے روکنے کی مذموم کوشش کی گئی ۔ اُن کے قریبی دوستوں اور عزیزوں کو تدفین سے پہلے ظہور نظر کو ’’مسلمان ‘‘ ثابت کرنا پڑا۔ شہر کے مفتی نے مرحوم کا اسلامی کلام دیکھ کر ظہور نظر کو ’’مسلمان ‘‘ قرار دیا۔یوں ’’ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے‘‘۔
ظہور نظر کی ادبی برادری نے ان کی وہ پذیرائی نہ کی، جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے ۔ ظہور نظر کے فن اور شخصیت پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر خالق تنویر کے بقول
’’ہمارے ذرائع ابلاغ نے انہیں کوئی اہمیت نہیں دی، وہ ناقدین کی بے اعتنائی اور ظالمانہ بے رُخی کا شکار ہوئے ‘‘ ۔
اتنے اعلیٰ آدمی کے ساتھ اہل شہرکا یہ سلوک اور اہل قلم کا یہ رویہ اگرچہ ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں، مگر ہم کب تک اپنے تخلیق کاروں کو گمنامی کے گڑھوں میں دھکیلتے رہیں گے ؟ کب تک ہر معتبر لکھاری کو گھٹیا اور فضول قسم کے الزامات سے نامعتبر کیا جاتا رہے گا؟ کب تک شاعر اور ادیب کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا رہے گا؟کب تک ہم کسی کی عظمت کا اعتراف کرنے میں بخل اور مصلحت سے کام لیتے رہیں گے؟ کب تک ہم منٹو، شکیب اور اقبال ساجد جیسے بے بدل تخلیق کاروں پر بات کرنے سے کتراتے اور ہچکچاتے رہیں گے؟ کب تک ان کے فن اور شخصیت کو شجر ممنوعہ قرار دیتے رہیں گے ؟ کب تک حقائق سے نظریں چُراتے رہیں گے؟ تاریخ شاہد ہے کہ عظیم تخلیق کار روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ ظہور نظر جیسے لوگ اپنے شہر کا فخر ہوتے ہیں،ایسے لوگ بہت کمیا ب ہیں ۔ ان کی قدردانی اور فن شناسی سماجی اور ریاستی ہر دو سطح پر ضروری ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ظہور نظر کی زندگی مسلسل محنت سے عبارت تھی۔ 1962ء میں انہوں نے ایک اور میدان میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا اور وہ تھا ریستوران کا قیام۔ ظہور نظر ہوٹل اور ریستوران کی انتظامی باریکیوں سے اقبال ہوٹل لدھیانہ کی ملازمت کے دوران آگاہ ہو چکے تھے۔ یہ منصوبہ ان کے ماضی کے تجربات کے حوالے سے ان کی طبیعت سے مناسبت رکھتا تھا۔ اس وقت بہاولپور میں ڈھنگ کا کوئی ریستوران موجود نہ تھا۔ بیکانیری گیٹ کے باہر حبیب ہوٹل اور چند سو فٹ آگے جنوب میں الہلال ہوٹل کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں لوگوں کو کچھ وقت گزارنے کے لئے کوئی پرسکون گوشہ میسر ہوتا۔ ظہور نظر کے احباب کا یہی خیال تھا کہ ریستوران چلانا ان کے لئے چنداں مشکل نہیں ہو گا۔ اس زمانے میں مسعود الرؤف ڈپٹی کمشنر بہاولپور تھے۔ اس منصوبے کو نہ صرف ان کی تائید حاصل تھی بلکہ اس ریستوران کا نام ’’ڈمپل‘‘ بھی انہوں نے تجویز کیا۔ اس مقصد کے لئے بیکانیری گیٹ کے اندر دروازے سے متصل بائیں جانب کی پہلی عمارت کرائے پر لی گئی۔ نچلے حصے کو ہال میں تبدیل کیا گیا اور چھوٹے چھوٹے کیبن بنائے گئے‘ نیا پلستر کیا گیا اور دیواروں پر خوش رنگ پینٹ کے علاوہ دیدہ زیب تصاویر بنائی گئیں۔ نئے دروازوں اور کھڑکیوں کو دلکش پردوں سے آراستہ کیا گیا‘ پلاسٹک کی لچکیلی رنگارنگ ڈوریوں سے بنی کرسیوں اور خوبصورت میزوں سے ہال اور کیبن سجائے گئے اور صاف ستھری وردیوں میں ملبوس چاق و چوبند بیرے گاہکوں کو خوش آمدید کہتے تھے۔ دروازے سے ملحق کاؤنٹر کے پیچھے سوٹ پہنے‘ سر پر فیلٹ سجائے اور چہرے پر دلنواز مسکراہٹ لئے ظہور نظر بیٹھے ہوتے۔ وہ نہ ہوتے تو ان کا بھانجا سیف گاہکوں اور بیروں سے بیک وقت نمٹنے میں مصروف دکھائی دیتا۔ ریستوران میں خوب گہماگہمی رہتی۔ درمیانے طبقے کے لوگوں کو گپ شپ کے لئے اچھی جگہ مل گئی۔ ایک طرح اس ریستوران کو ثقافتی حیثیت حاصل تھی جہاں ہر طبقہ فکر کے لوگ اپنی اپنی میزوں کے گرد بیٹھے اپنے پسندیدہ موضوعات پر گفتگو میں مصروف رہتے۔ مسعود اشعر کے بقول ظہور نظر کے دوست احباب آتے‘ ان سے گھنٹوں گپ شپ ہوتی‘ وہ بھول جاتے یہ کاروبار ہے اس کے لئے توجہ کی ضرورت ہے۔ ظہور نظر نے جس انہماک سے کام شروع کیا آمدنی اس کے مطابق نہیں تھی۔ پھر وہ خود بھی اس کام سے لاتعلق ہو گئے اور تین ماہ بعد یہ ریستوران بند ہو گیا۔
(ڈاکٹر خالق تنویر کی کتاب ’’ظہور نظر فن اور شخصیت‘‘ سے اقتباس)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں

ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں

ترک محبت ترک تمنا کر چکنے کے بعد

ہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں

دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے

روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں

درد ہماری محرومی کا تم تب جانو گے

جب کھانے آئے گی چپ کی سائیں سائیں تمہیں

سناٹا جب تنہائی کے زہر میں بجھتا ہے

وہ گھڑیاں کیونکر کٹتی ہیں کیسے بتائیں تمہیں

جن باتوں نے پیار تمہارا نفرت میں بدلا

ڈر لگتا ہے وہ باتیں بھی بھول نہ جائیں تمہیں

رنگ برنگے گیت تمہارے ہجر میں ہاتھ آئے

پھر بھی یہ کیسے چاہیں کہ ساری عمر نہ پائیں تمہیں

اڑتے پنچھی ڈھلتے سائے جاتے پل اور ہم

بیرن شام کا دامن تھام کے روز بلائیں تمہیں

دور گگن پر ہنسنے والے نرمل کومل چاند

بے کل من کہتا ہے آؤ ہاتھ لگائیں تمہیں

پاس ہمارے آکر تم بیگانہ سے کیوں ہو

چاہو تو ہم پھر کچھ دوری پر چھوڑ آئیں تمہیں

انہونی کی چنتا ہونی کا انیائے نظرؔ

دونوں بیری ہیں جیون کے ہم سمجھائیں تمہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

معروف شاعر لیاقت علی عاصمؔ کا یومِ وفات
معروف ادیب, شاعر اور ماہر نفسیات ڈاکٹر خالد سہیل کا یوم پیدائش
مشہور مزاح نگار کرنل محمد خان کا یوم پیدائش
معروف شاعر سید محسن نقوی کا یوم پیدائش
معروف صحافی اور سفر نامہ نگار علی سفیان آفاقی کا یوم پیدائش
معروف ادیب اور تجزیہ نگار اشفاق احمد کا یوم وفات
معروف شاعر اور نقاد کمار پاشی کا یومِ وفات
معروف شاعر بلراج کومل کا یومِ پیدائش
اردو کے مشہور شاعر ڈاکٹر یونگ وان لئیو شیدا چینی کا یوم پیدائش
ممتاز شاعر پروفیسر شُہرت بخاری کا یومِ پیدائش

اشتہارات