اردوئے معلیٰ

Search

مصطفیٰ خیر الوریٰ ہیں آپ ہی شاہِ زمن

منتخب مولا نے کی ذات آپ کی شاہِ زمن

 

جہل کی تاریکیاں پھیلی ہوئی تھیں چار سُو

آپ لائے ساتھ عِلم و آگہی شاہِ زمن

 

کیا عرب سارے جہاں میں ظُلمتوں کا راج تھا

آپ کے آنے سے پھیلی روشنی شاہِ زمن

 

مالکِ کونین ہیں پر اختیاری فقر تھا

زندگی میں ہے نمایاں عاجزی شاہِ زمن

 

اپنے اس بے کس پہ ہو لُطف و عنایت کی نظر

ہو عطا دربار کی پھر حاضری شاہِ زمن

 

گو کہ عاصی ہُوں مگر ڈھارس ہے دل کو دے رہی

وہ دُعائے ربِّ ہبلی اُمتی شاہِ زمن

 

رو برو ہو آپ کا جلوہ لبوں پر نعت ہو

ہو مرا جب اختتامِ زندگی شاہِ زمن

 

مرحمت فرمائیے اب رُخ کے جلوے کی جھلک

آپ کے دیدار کی ہے لو لگی شاہِ زمن

 

شافعِ روزِ جزا ہیں حشر میں کُھل جائے گا

خلق سب محتاج ہوگی آپ کی شاہِ زمن

 

رنج و غم موقوف مرزا قادری کے کیجیے

ہو عطا اپنے کرم سے بہتری شاہِ زمن

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ