مصیبت میں پڑے ہیں ، اَنْتَ مَوْلٰنَا

 

مصیبت میں پڑے ہیں ، اَنْتَ مَوْلٰنَا

ترے در پر کھڑے ہیں ، اَنْتَ مَوْلٰنَا

 

ہمارے حق میں یہ نعمت ہی کافی ہے

کہ ہم بندے ترے ہیں ، اَنْتَ مَوْلٰنَا

 

مدد فرما ، مدد فرما ، مدد فرما

مصیبت میں گھرے ہیں ، اَنْتَ مَوْلٰنَا

 

وسیلہ پیارے پیغمبر کا لائے ہیں

لئے کاسہ کھڑے ہیں ، اَنْتَ مَوْلٰنَا

 

ترے در کے سوا یا رب! کہاں جائیں

گدا ہم سب ترے ہیں ، اَنْتَ مَوْلٰنَا

 

تجھی سے ہم ، تجھی سے مانگتے ہیں ہم

ترے ہیں ہم ترے ہیں ، اَنْتَ مَوْلٰنَا

 

کرم عادت ہے تیری ، ہم ترے بندے

خطا سے ہم بھرے ہیں ، اَنْتَ مَوْلٰنَا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے
سرکا رکے جلووں سے معمور نظر رکھئیے
نعت کہنا مری قسمت کرنا
لے چلا مجھ کو طالعِ بیدار
جب بھی نگاہ کی ہے کِسی پر حضور نے
چلے زمِین سے جب آپ لامکاں کے لئے
حسن تمام و لطف سراپا تمہی تو ہو
پائندہ تیرا نور اے شمع حرم رہے
نعلین گاہِ شاہ سے لف کر دیئے گئے
شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر

اشتہارات