اردوئے معلیٰ

Search

مطلعِ نور عطا فہم و سخن پر کر دیں

نعت کو اپنی مرے نطق کا محور کر دیں

 

مزرعِ جاں ہے خزاں دیدہ و بے رنگ مرا

سبز کر دیں اِسے شاداب و تناور کر دیں

 

روزِ محشر جو مرا نامۂ اعمال کُھلے

تب نعم کہہ کے مرے شہ اسے بہتر کر دیں

 

آنے والی ہے قضا جانے یہ کب آ جائے

کیا ہی اچھا ہو مدینے میں عطا گھر ، کر دیں

 

ہوں غلام ابنِ غلام آپ کا، بہرِ توثیق

نقشِ نعلین کو دستار پہ جھومر کر دیں

 

ایک پھیرا ہو کرم کا مرے گھر بھی کوئی دن

میرے آنگن کو مرے شاہ منور کر دیں

 

میری ان ہجر زدہ سانسوں کو اے ماہِ مبیں

صدقۂ زلفِ معنبر سے معطر کر دیں

 

وہ سخی اتنے ہیں منظر کہ خدا سے کہہ کر

تجھ سے بے حرف کو چاہیں تو سخن ور کر دیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ