معراج فیض آبادی کا یوم پیدائش

آج معروف شاعر معراج فیض آبادی کا یوم پیدائش ہے۔

معراج فیض آبادیایسے خوش نصیب شعرا کم ہوتے ہیں جنھیں اسٹیج اور رسائل و جرائد ہر دو اعتبار سے شہرت و مقبولیت حاصل ہو۔ مشاعرے کے شعرا عام طور پر عوامی مزاج اور ذہن یا پھر اسٹیج کے تقاضوں کی آفت میں اس طرح ملوث ہوجاتے ہیں کہ ادبی شان اور مسائل و جرائد کے تقاضے ملحوظ نہیں رکھ پاتے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی شاعری عوامی جذبات اور عمومی لہجے کی شاعری ہوکر رہ جاتی ہے۔ اس کے برعکس رسائل و جرائد میں چھپنے والے شعرا اس قدر مخصوص لب و لہجے اور لفظیات میں قید ہوجاتے ہیں کہ مشاعروں کی مقبولیت سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ حیرت ہوتی ہے جناب معراج فیض آبادی کی تخلیقی قوت پر کہ وہ مشاعروں اور جرائد میں یکساں مقبولیت کے حامل ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے عوامی ذہن و مزاج کو ملحوظ تو رکھا لیکن شعری محاسن اور فنی تقاضوں سے کبھی سمجھو تہ نہیں کیا۔ اس مختصر سی تحریر میں ان کی بذلہ سنجی، ان کا اخلاص اور شعری طریقۂ کار پر گفتگو کی گئی ہے جس سے ان ک شخصیت اور شاعری کے کچھ جانے انجانے پہلو زیر بحث آگئے ہیں۔
یہ بات 1980ء کی ہے میں اپنی شاعری کے آغاز کے دور میں تھا۔ اسی دوران جشن لکھنؤ کے مشاعرے میں مجھے یاد کیا گیا۔میں جب اپنا کلا م پڑھ رہا تھا تو مجھ سے میرے ایک گیت کی فرمائش کی گئی جس کا عنوان تھا "تجھے تجھ سے چرا لوں گا”۔ میں خوب داد وصول کر رہا تھا کہ اچانک ایک جملہ میرے کانوں میں پڑا "میاں اس کم عمری میں اس قدر تجربہ کی بات کیا کہنا”اس جملے سے سارا ماحول قہقہ زار ہو گیا۔ میں نے اسٹیج پر مڑ کر دیکھا تو وہ جملہ معراج فیض آبادی کا تھا۔میں نے بھی ان کا ساتھ دیا اور کہا کہ سب اُن جیسے بزرگوں سے ہی سیکھا ہے۔بس کیا تھا معراج بھائی نے گلے سے لگا لیا اوکہا کہ یہ لڑکا ضرور کچھ نہ کچھ بنے گا۔ وہ دن سو آج کا دن، معراج صاحب وہی محبت اور شفقت سے پیش آتے اور ہر ملاقات میں کچھ نہ کچھ ایسا عکس مجھ پر ضرور چھوڑجاتے کہ ان کو بھلایا نہ جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر اکبر الہ آبادی کا یوم پیدائش
۔۔۔۔۔۔
ہندوستان اور ہندوستان سے باہر میں نے ان کے ساتھ سیکڑوں مشاعروں میں شرکت کی ۔کبھی ایسا نہیں لگا کہ وہ میرے خاندان کے اپنوں سے الگ ہیں۔وہی لہجہ اور محبت ۔وہی شفقت اور اپنے چھوٹوں کے ساتھ اسی انداز سے سرپرستانہ سلوک۔یہاں ان کے ساتھ کے چند واقعات پیش کرنے کی جراَت کر رہا ہوں جو ان کے اعلیٰ ظرف اور وسیع القلب ہونے کی مثال ہیں۔
سعودی عرب کے ایک مشاعرے میں تمام شعرا کے ساتھ میں بیٹھا تھا کہ شاعری کا ذکر شروع ہو گیا۔ سب نے اپنے اپنے اشعار سنائے۔میں نے بھی کچھ شعر سنائے۔دوران گفتگو میرے ایک شعر پر ایک شاعر نے کچھ مشورہ دیا اور کہا میں اس میں کچھ تبدیلی کرلوں۔میں نے کہا کہ ضرور ۔گفتگو ختم ہونے کے بعد کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے معراج فیض آبادی نے فرمایا کہ ماجد میاں آپ کویہ مشورہ مخلصانہ نہیں دیا گیا اور مناسب یہی ہے کہ میں اس شعر میں کوئی تبدیلی نہ کروں۔پھر انھوں نے اس شعر کی تعریف اورتبدیلی کے بعد خرابی کو تفصیل سے سمجھایا۔ یہ ان کی اپنے چھوٹو ں سے ہمدردی اور ان کے اصلاح کرنے کا جذبہ تھا جو ہر کسی میں نہیں ہوتا۔ایک بات بے انتہا اہم تھی جو انھوں نے بتائی کہ اگر میں اُس شاعر کا مشورہ مان کر وہ غزل اس مشاعرے میں پڑھتا تو یہ تاثر دیا جاتا کہ جیسے میں اس شاعر کی لکھی ہوئی غزل پڑھ رہا ہوں۔یہ بزرگ شاعر نو جوانوں کو اپنا شاگرد بنا کر ان کو غزلیں لکھ کر دیا کرتے تھے۔ معراج بھائی کی وجہ سے اللہ نے مجھے ان کے احسان اور میری بدنامی سے بچایا۔واقعات بہت سارے ہیں لیکن ایک واقعہ اور سنیں:
ابھی دو سال قبل میں مسقط کے ایک مشاعرے میں تھا۔ معراج صاحب بھی ہندوستان کے بہت سے شعرا کے ساتھ اس مشاعرے میں تشریف لے گئے تھے۔ کئی سالوں سے ان کی طبیعت خراب چل رہی تھی اور کسی نہ کسی نئی بیماری میں گھرے رہتے تھے۔وہاں جا کر معلوم ہو ا کہ ان کو چکن گنیا کی نئی تکلیف کا سامنا ہے اور وہ بہت پریشان ہیں۔معراج بھائی واقعی بے حد تکلیف میں تھے۔منتظمین مشاعرہ کی کوششوں سے ان کا علاج ہو رہا تھا اور وہ آرا م بھی محسوس کر رہے تھے۔مشاعرہ ہو ااورمعراج فیض آبادی نے خوب پڑھا ۔مشاعرے کے کامیاب ترین شعرا میں رہے معراج صاحب۔اچھے موڈ میں بیٹھے تھے ۔مزاج کے بے انتہا نر م اور سادہ ہونے کے ساتھ ساتھے وہ حساس بہت تھے۔مشاعرے کے آخر میں ہندوستان کے ایک مشہور شاعر جب کلام پڑھنے آئے تو حسب عادت انھوں نے معراج صاحب کے بارے میں یہ کہدیا کہ معراج فیض آبادی نے اتنی بیماری کے بعد اتنا اچھا پڑھا اور مشاعرہ لوٹ لیا اس سے بہتر تو یہ ہے کہ معراج صاحب ہمیشہ ایسے ہی بیمار رہیں جس سے وہ یوں ہی مشاعرہ لوٹتے رہیں۔ یہ سننا تھا کہ معراج بھائی کی آنکھوں میں نمی آگئی اور ان کا چہرہ مرجھا نے لگا۔ میں ان کے پاس بیٹھا تھا ۔میں نے دیکھا کہ وہ اس قدر متاثر ہوئے اس توہین سے کہ ان کو سنبھالنا مشکل ہو گیا۔بڑی دیر کے بعد وہ سنبھلے اور ذرا ٹھیک ہو سکے۔دل کے اس قدر معصوم کہ کوئی بھی ان کو ایک لمحے میں رلا سکتا تھا۔یہ ان کے نیک دل اور مومن صفت ہونے کی دلیل تھی۔جس شاعر نے ان کی توہین کی تھی اس کو کیا خبر کہ ایک سید اور نیک دل انسان کا دل توڑ کر اس نے کتنا بڑا گناہ کیا۔وہ تو سب کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرنے کا عادی ہے۔میں نے جب معراج صاحب سے اس شاعر کے بارے میں کچھ کہنا چاہا تو انھوں نے مجھے منع کیا اور کہا اُس کا عمل اُس کے ساتھ ہے۔البتہ یہ ضرور کہا کہ خدا سب دیکھ رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر پرنم الہ آبادی کا یوم وفات
۔۔۔۔۔۔
معراج فیض آبادی کا تعلق اس نسل سے تھا جس نے ہندوستان کے تمام بڑے اساتذہ کے ساتھ مشاعرے پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔ وہ اُس عہد میں اپنی شاعری کا چراغ جلاتے رہے جو لہجوں کی بھیڑ میں بے انتہا مشکل کام تصور کیا جاتا تھا۔ جہاں غزل کی رومانی روایات کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا جا رہا تھا وہیں معراج فیض آبادی نے اپنے انداز سے تمام اساتذہ کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔وہ شعراء کے اس قبیل سے تعلق رکھتے تھے جو جمال آرائی اور خیال آفرینی کے ساتھ ساتھ اظہار کی پاکیزگی اور جذبے کی طہارت پر یقین رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے ان کا کسی ایسے نظریہ فکر سے کبھی واسطہ نہیں رہا جس سے لفظ و معنی کا تقدس مجروح ہوتا ہو۔معراج بھائی کے تخلیقی شعور کی بنیاد ہمیشہ جذبے کی نفاست اور خیال کے اجلے پن پر رہی۔انھوں نے اپنے سخن چہرے کو فکری بے راہ روی کی گرد اور شعری خود نمائی کے غبار سے کبھی میلا نہیں ہونے دیا۔تشہیری حربوں سے دور اور گروہ بندی کے سہارے نام کمانے والوں سے ان کا ہمیشہ اختلاف رہا۔انھوں نے اپنے کردار و عمل سے یہ ثابت کر دکھا یا کہ اچھا شاعر ہی ایک اچھا انسان ہو سکتا ہے۔
معراج فیض آبادی کے لا تعداد اشعار ایسے ہیں کہ جو زبان زدخاص و عام ہیں۔ان کی شاعری میں ہر عمر اور ہر مزاج کی نمائندگی ہوتی تھی اور وہ اس طرح اپنی شاعری کو سنوارنے میں ماہر تھے کہ ہر شخص ان کے فنِ شاعری پر رشک کرتا ہوا نظر آتا۔ان کی شاعری کا یہ امتیاز رہا ہے کہ وہ معیار صداقت کو بدل دینے والے زمانے میں بھی اپنی معیاری صداقت کو برقرار ر رکھتا ہے۔وہ بو لہوسوں کے ہجوم میں بھی محبت کی پاکیزگی کا چراغ روشن رکھتے ہیں۔وہ اپنی شاعری میں غم دہر میں بھی اپنے آپ کو وقف تو کرتے ہیں لیکن اس میں گم نہیں ہو جاتے کیوں کہ غم دہر کے ساتھے ساتھ غم محبوب کا بھی ان پر حق ہے ساتھ ہی قوم و ملت کا بھی وہ خیال رکھتے ہیں۔کوئی بھی سنجیدہ موضوع ان کی شاعری سے الگ نہیں رہا اور ا نھوں نے غزل کی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ کی خو ب سے خوب تر عکاسی کی ہے جو ان کا اپنا حق تھا۔جدید اور قدیم شاعری کا ایسا سنگم جو ان کی شاعری میں ملتا ہے کہیں اور ملنا مشکل نظر آتا ہے۔شاعری کی جس معراج پر وہ براجمان تھے وہاں ہر کسی کا گزر ہونا نا ممکن سا لگتا ہے۔اس مختصر سے مضمون میں ان کے چند بے انتہا مشہور شعر دیکھیں :
———-
مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے
———-
لہو کے رنگ کو مہندی کی بو نے چھین لیا
ہوا جوان جو بیٹا بہو نے چھین لیا
———-
بات تو جب ہے مندر کے اونچے کلش مسجدوں کی حفاظت کا پیغام دیں
اور مسجد کے مینار دیں یہ صدا دیکھنا یہ شوالا بڑی چیز ہے
———-
ہم بھی تعمیرِ وطن میں ہیں برابر کے شریک
در و دیوار اگر تم ہو تو بنیاد ہیں ہم
———-
میں بھی خسرو کی طرح شعر پڑھوں رقص کروں
کاش مجھ کو کوئی محبوبِ الہی مل جائے
———-
اپنے کعبے کی حفاظت تمھیں خود کرنی ہے
اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا
———-
گویا کہ ان کی شاعری میں عصری حسیت ، تاریخی پہلو اور انسانی نفسیات کی بے شمار نہجیں موجزن ہے۔ اللہ کرے ان کی شاعری کے تعمیری ذہن کا فروغ ہوا ور وہ اس دنیا کے بعد کی نعمتوں سے بہرہ ورہوں۔مذکورہ بالا اشعارکے بطن میں جھانک کر دیکھیں تو یہ محسوس ہوگا کہ انھوں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا اور پڑھا ہے۔ ضرورت ایسی چیز ہے جو بڑھاپے کی نحیفی اور لاغری کو شکست دے کر ہمیشہ غزل کی طرف گامزن رہنے پر مجبور کرتی ہے یہ پہلے شعرا کا سیاق ہے۔ دوسرے شعر میں ایک مجبور اور محنت کش باپ کے اس جذبات کی پیش کش ہے جہاں بچپن سے جوانی تک کی محنت و مشقت پر پانی پھرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ تیسرے شعر میں گنگا جمنی تہذیب کے استحکام کی صورتوں پر غوروخوض ہے۔
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر فیض احمد فیض کا یوم پیدائش
۔۔۔۔۔۔
جہاں ہندومسلم کو ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کی دعوتِ فکر دی جارہی ہے۔ چوتھا شعر مسلم طبقہ کے ایسے شکوے سے بحث کرتا ہے جو حق بجانب ہے۔ آخر قربانیوں اور جانوں کے لٹانے میں جو طبقہ ہندوستان کی آزادی کی جنگ میں پیچھے نہیں رہا وہی آج مشکوک اور مغلوب کیوں ہے ؟ پانچویں شعر میں ایک فن کار کے جذبات کی روداد ہے۔جہاں یہ تمنائیں اس کے سینے میں مچل رہی ہیں کہ مجھے ایسا ماحول میسر آجائے جہاں میرے افکار اور فن کے پروان چڑھنے کی خوبصورت فضا میسر ہو اور وہ فضا محبوب الہیٰ کے چہیتے مرید اور شاگرد امیر خسرو کی طرح ہو تو کیا کہنا۔چھٹے شعرمیں دنیا کے ان مسلمانوں کے جذبات کی عکاسی ہے کہ جو ہر ہر لمحہ اسلام دمشمنوں کی طرف سے کچھ نہ کچھ خطرات محسوس کرتے ہیں اور پوری دنیا میں ان کے ساتھ جو ظلم و ستم ہو رہا ہے اس سے شاید کہیں وہ گھبرا نہ سکیں ۔پوری قوم کو ایک حوصلہ اور ہمت اور نئے ولولہ اور جوش دلانے میں معراج صاحب پوری طرح سے کامیاب نظر آتے ہیں۔
معراج فیض آبادی نہ صرف مشاعروں کی دنیا کے مشہور و معروف شاعر تھے بلکہ انھوں نے ادب میں ایک خاص سوچ اور نئے لہجے کی بازیافت کی اور پوری دنیا میں اپنے سننے والے پیدا کئے۔انھوں نے مشاعروں کی سستی شہرت پانے کے لیے کبھی ادبی اقدار سے سمجھوتہ نہیں کیا۔مشاعروں کی کامیابی ایک الگ چیز ہے لیکن یہ طے ہے کہ مشاعرہ آپ کے ادبی قد کو اونچا نہیں کرتا۔ آپ کا قد آپ کی شاعری اور فن سے ہوتا ہے ۔بہت سے مشاعروں میں ایسا بھی ہوا کہ معراج صاحب کو اس طرح نہیں سنا گیا جیسے ان کو سننا چاہئے تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی طرح دوسرے شعرا سے کچھ کم مقام رکھتے تھے۔آج مشاعروں کا المیہ یہ ہے کہ بہت سے نا شاعر صرف گلے کے زور پر اہم اور مستند شعرا کو نظر میں نہیں لاتے اور اپنے کو وقتی شہرت کی بنیاد پر نا جانے کیا سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کے ذمے دار ہم خود ہیں جو ان کو یہ نہیں بتاتے کہ ادب بھی ضروری ہے یا صرف گلے بازی ہی کافی ہے۔مشاعرہ لوٹنا یک الگ بات ہے اور ادبی اور ذہین عوام پر اپنا اثر چھوڑنا ایک الگ مقام رکھتا ہے۔ معراج صاحب نے کبھی بھی اپنی شاعری کو عوام کے معیار پر اترنے نہیں دیا اور اپنے شعور اور فکر و فن کے چراغ جلا کر نئی نسل کی سرپرستی کرتے رہے۔ان میں سیاست کا کوئی دخل نہیں تھا ورنہ ان کے ساتھ کے بہت سے لوگ اس سیاست کی وجہ سے نہ جانے کہاں کہاں پہنچ گئے ۔حالانکہ معراج فیض آبادی کا مقام کسی سے کم نہیں تھا لیکن انھوں جو زندگی گزاری خودداری اور شرافت کے ساتھ گزاری ۔ اسی وجہ سے وہ برسوں اپنے خلاق،شاعری اور سادگی کی وجہ سے یاد کیے جاتے رہیں گے۔
بزرگوں کے جس خاندان سے معراج فیض آبادی کا تعلق تھا اس خاندان سے ہزاروں لوگ وابستہ ہیں اور پوری دنیا میں بزرگان دین کی عظمتوں کی روشنی کو پھیلا رہے ہیں۔معراج صاحب میں بھی وہی نیک نیتی سے زندگی گزارنے کا سلیقہ تھا اور شاید اسی وجہ سے ان کے متعلقین میں نہ صرف ان کے خاندان والے بلکہ پوری دنیا میں ان کے ہزاروں چاہنے والوں کو جب یہ خبر ملی کہ 2/جنوری 1941 ء کو پیدا ہونے والے اس عظیم شاعرنے 30/ نومبر 2013ء کو دنیا سے پردہ کر لیا تو اس خبر سے غم کی ایک لہر دوڑ گئی ۔یقیناًیہ خلا بظاہر پر ہونا مشکل ہے لیکن اللہ کی مصلحت کے آگے سب مجبور ہیں۔صرف ان کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے خاندان کے لیے صبر کی دعا کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔سچ تو یہ ہے کہ معراج فیض آبادی کی شاعری کا مطالعہ کرتے جائیے اور ان کی شاعری میں وطن اور قوم کے ایک ایک مسئلے کو خوبصورت اور دل پذیر اندا ز میں محسوس کرنے کا ضابطہ محسوس کرتے جائیے۔
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر اکبر الہ آبادی کا یوم وفات
۔۔۔۔۔۔
آپ کو ایک اچھا انسان ،ایک اچھا بزرگ،ایک اچھا دوست اور سرپرست کا چہرہ نظر آتا رہے گا جو یقیناًنئی نسل اور مثبت سوچ رکھنے والوں کی رہنمائی کرتا ہوا دکھائی دے گا۔
———-
منتخب کلام
———-
بھیگتی آنکھوں کے منظر نہیں دیکھے جاتے
ہم سے اب اتنے سمندر نہیں دیکھے جاتے
اس سے ملنا ہے تو پھر سادہ مزاجی سے ملو
آئینے بھیس بدل کر نہیں دیکھے جاتے
وضع داری تو بزرگوں کی امانت ہے مگر
اب یہ بکتے ہوئے زیور نہیں دیکھے جاتے
زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے
———-
زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا
پاؤں بخشیں ہیں تو توفیق سفر بھی دینا
گفتگو تو نے سکھائی ہے کہ میں گونگا تھا
اب میں بولوں گا تو باتوں میں اثر بھی دینا
میں تو اس خانہ بدوشی میں بھی خوش ہوں لیکن
اگلی نسلیں تو نہ بھٹکیں انہیں گھر بھی دینا
ظلم اور صبر کا یہ کھیل مکمل ہو جائے
اس کو خنجر جو دیا ہے مجھے سر بھی دینا
———-
ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے
تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے
کچھ تو ہم خود بھی نہیں چاہتے شہرت اپنی
اور کچھ لوگ بھی ایسا نہیں ہونے دیتے
عظمتیں اپنے چراغوں کی بچانے کے لیے
ہم کسی گھر میں اجالا نہیں ہونے دیتے
آج بھی گاؤں میں کچھ کچے مکانوں والے
گھر میں ہمسائے کے فاقہ نہیں ہونے دیتے
ذکر کرتے ہیں ترا نام نہیں لیتے ہیں
ہم سمندر کو جزیرہ نہیں ہونے دیتے
مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے
———-
اے دشت آرزو مجھے منزل کی آس دے
میری تھکن کو گرد سفر کا لباس دے
پروردگار تو نے سمندر تو دے دیے
اب میرے خشک ہونٹوں کو صحرا کی پیاس دے
فرصت کہاں کہ ذہن مسائل سے لڑ سکیں
اس نسل کو کتاب نہ دے اقتباس دے
آنسو نہ پی سکیں گے یہ تنہائیوں کا زہر
بخشا ہے غم مجھے تو کوئی غم شناس دے
لفظوں میں جذب ہو گیا سب زندگی کا زہر
لہجہ بچا ہے اس کو غزل کی مٹھاس دے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ