اردوئے معلیٰ

Search

معرفت کا نور ہے اور آگہی قرآن ہے

جس سے انساں کو ملی ہے روشنی قرآن ہے

 

اب غرض تجھ سے نہیں ہے مجھ کو بزمِ کائنات

عاشقِ سرکار ہوں ، دنیا مری قرآن ہے

 

مضطرب رہتے ہیں جو یہ ان کو سمجھائے کوئی

پڑھ کے تو دیکھو ، سکونِ دائمی قرآن ہے

 

سینہء اطہر پہ یہ نازل ہوا سرکار کے

درحقیقت مومنوں کی زندگی قرآن ہے

 

میں تو خاکی صرف مشتِ خاک ہوں اور حق ہے یہ

جس سے قائم ہے مری زندہ دلی قرآن ہے

 

آدمی تو تھے جہاں میں آدمیت تھی کہاں

آدمی جس سے بنا ہے آدمی قرآن ہے

 

عائشہ صدیقہ کے اس قولِ صادق کی قسم

حسنِ اوصافِ نبی ، خُلقِ نبی قرآن ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ