معروف شاعر اور نقاد کمار پاشی کا یومِ وفات

آج معروف شاعر ،افسانہ نگار ، ڈرامہ نگار اور نقاد کمار پاشی کا یومِ وفات ہے۔

 

کمار پاشی غیر منقسم ہندوستان کی ایک ریاست بہالپور میں پیدا ہوا تھا
تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ جے پور گیا اور پھر اپنے خاندان کیساتھ دہلی میں جا بسا۔ یہیں اس کی ادبی سرگرمیوں کا آغاز ہوا اور یہیں اس نے آحری سانس لی۔
کمار پاشی کی تاریخ پیدائش 3 جولائی 1935ء تھی اور 17 ستمبر 1992ء کی صبح کو اس کا انتقال ہوا۔ یعنی 57 برس کی عمر پائی۔
وہ موت سے ہمیشہ بہت خائف تھا، قدرت نے اسے خوف سے اس طرح نجات دلائی کہ وہ جب تک ہوش میں رہا پوری طرح تندرست اور توانا تھا۔ دفتر کا کام ختم کر کے گھر جا رہا تھا کہ راستے میں بیہوش ہو کر گرا اور پھر ہوش نہیں آیا ۔ یہ 16 ستمبر کی شام کا واقعہ ہے،رات بھر وہ بیہوش رہا اور 17 ستمبر کی صبح کو جے پرکاش نرائن ہسپتال کے ڈاکٹروں نے جہاں وہ آفس سپنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز تھا یہ اعلان کر دیا کہ مسٹر شنکروت کمار اب ایک ڈیڈ باڈی ہیں ۔ اس کا اصل نام یہی تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : محبتوں کے شاعر شِو کمار بٹالوی کا یومِ پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تصانیف
پرانے موسموں کی آواز
خواب تماشا ولاس یاترا انتظار کی رات ،رو بہ رو، اک موسم میرے دل کے اندر ، اک موسم میرے باھر،زوالِ شب کا منظر،اداسی کے پانچ روپ،اردھانگنی کے نام ،چاند چراغ ۔ ( بعد از مرگ پہلے آسمان کا زوال ۔ افسانوی مجموعہ ،جملوں کی بنیاد ۔ یک بابی ڈراموں کا مجموعہ کلیاتِ کمار پاشی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

سہل ہے راستہ محمد کا

جل رہا ہے دِیا محمد کا

بے یقینی کے ان اندھیروں میں

سب کو ہے آسرا محمد کا

نعرہء حق کی گونج ہے ہر سو

دور پھر آ گیا محمد کا

جل اٹھے پھر چراغ منزل کے

بادباں کھل گیا محمد کا

شب کی تاریک راہ میں اب بھی

نور ہے جا بجا محمد کا

جس طرف سے بھی ہو چلے آؤ

ہے ہر اک راستہ محمد کا

پرچم سبز کھل گۓ ہر سو

چل پڑا قافلہ محمد کا

ہے ہواؤں کے ہاتھ پر دیکھو

نام لکھا ہوا محمد کا

کفر کی رات ڈھل گئی پاشیؔ

دیکھ پھر دن ہوا محمد کا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہاں نہ جانے اڑا لے گئی ہوا مجھ کو

کہ بحروبر میں کوئی ڈھونڈتا پھرا مجھ کو

 

عجیب دشت سفر ہے نہ روشنی نہ صدا

کہاں ہوں میرے پیکر ! کہیں دکھا مجھ کو

 

گواہی دے میرے ہونے کی کائنات کہن

کہ اس اجاڑ میں برسوں سنا گیا مجھ کو

 

کسی طرح سے چھٹے تو یہ تیرگی کا غبار

تو موج خاک فلک سے اتار لا مجھ کو

 

نہیں جو میں خبر مرگ مشتہر کر دے

اگر میں ہوں تو کہیں سے بھی ڈھونڈ لا مجھ کو

 

فصیل شہر تو اب راستہ نہ روک مرا

بلا رہا ہے یہ جنگل ہرا بھرا مجھ کو

 

نکل پڑا ہوں میں گھر سے تلاش میں جس کی

کہیں وہ بھی چلا آۓ ڈھونڈتا مجھ کو

 

کسی کو جا کے تو دیتا جواب ہر لمحہ

کہ میرے شہر میں کوئی تو جانتا مجھ کو

 

نہ بڑھ سکے گا تو آگے ہزار کوشش کر

کہ تیری راہ کا پتھر ہوں میں ہٹا مجھ کو

 

ہوا کے صفحے پہ لکھ کے مٹا دیا تھا جسے

ہے رنج اب بھی اسی ایک لفظ کا مجھ کو

 

نکل گیا تھا اک دن اجاڑ راہوں پر

نہ مل سکا کبھی پھر گھر کا راستہ مجھ کو

 

میں دشمنوں کی صفحوں میں نکل گیا پاشیؔ

خوش آ گیا تھا بہت خوں کا ذایقہ مجھ کو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اک ایسا شخص ہوں خود اپنے دھیان میں بھی نہیں

کہ میرا ذکر مری داستاں میں بھی نہیں

 

لکھا ہوا ہے: کہ میری تلاش لاحاصل

چھپا ہوا میں بدن کی چٹان میں بھی نہیں

 

بندھا ہوا ہوں اسی سے میں خاک ہونے تک

وہ ایک لفظ: جو وہم و گمان میں بھی نہیں

 

پروں کو جھاڑ کے بیٹھا ہوں چھپ کے پتوں میں

میں وہ پرند: جو پہلی اڑان میں بھی نہیں

 

برہنہ گو ہوں، غلط گو نہیں ہوں میں پاشیؔ

ادیب مجھ سا تو اہل زبان میں بھی نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک نظم
وادی وادی پاگل روحیں پیا کے رنگ اڑائیں
رستہ رستہ اپنے پیچھے قصے چھوڑتی جائیں
چار دشائیں دھیمے دھیمے گیت ان کے دھرائیں
قدم قدم پر مست بہاریں پھول بچھاتی جائیں
دھرتی دھرتی سمے سہانے سو سو نقش بنائیں
جھل جھل کرتی تیز ہوائیں
دور دور تک پاگل پن میں
دھول اڑاتی جائیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک موسم میرے دل کے اندر اک موسم میرے دل کے باہر سے منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جگنو کوئی ظلمت کو مٹانے کے لیے دے

اک خواب تو آنکھوں میں سجانے کے لیے دے

 

لے چاک کۓ دیتا ہوں میں اپنا گریباں

اب دشت مجھے خاک اڑانے کے لیے دے

 

ہر پیڑ کو شاخیں کبھی سر سبز عطا کر

ہر شاخ کو کچھ پھول سجانے کے لیے دے

 

اک نور فضا میں ہے تو اک رنگ ہوا میں

منظر یہ مجھے سب کو دکھانے کے لیے دے

 

خوشیاں دے کے میں بانٹ سکوں اہل زمیں کو

اور درد مجھے دل میں چھپانے کے لیے دے

 

سیراب کرے دشت کو جو اپنے لہو سے

ایسا کوئی کردار نبھانے کے لیے دے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماں کی چوکھٹ پر
جو بھی کچھ اچھا تھا مجھ میں
میرے دل میں
کھو چکا ہوں
نامرادی کا سفر طے کرتے کرتے
آج پھر اک بار
ماں!
در تک ترے میں آ گیا ہوں
دیکھ کتنا ڈھیٹ ہوں
میں جانتا ہوں
اب بھی دامن کو مرے بھر دے گی تو اچھائیوں سے
اور اب بھی میں
گنوا دوں گا انہیں
گھر لوٹنے تک
اپنے اندر کی گھنی پرچھائیوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا دکھ پہچانو
جانے آنے والی گھڑیاں
مرے لیے کیا لائیں
کوے آج فجر سے کرتے
چھت پر کائیں کائیں
جن سے بچھڑے عمر گذر گئی
ان کی یاد دلائیں
اڑ جائیں کہو۔دور دیس میں
کوئی سندیسہ لائیں
مجھ سے لوگ بھرے گھر میں بھی
خود کو اکیلا پائیں
درد میں ڈوبے گھائل من کو
کیا کہہ کر سمجھائیں
میرا دکھ تو وہ جانیں گے
دور ہیں جن کی مائیں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ممتاز شاعر اور ادیب کرار نوری کا یوم پیدائش
مشہور و معروف شاعر ، براڈ کاسٹر افتخار نسیم افتی کی برسی
معروف فلمی نغمہ نگار اور شاعر شکیل بدایونی کا یوم پیدائش
جدید عہد کے نامور غزل گو شاعر اظہر فراغ کا یوم پیدائش
معروف شاعر ، ادیب اور کالم نگار انیس ناگی کا یومِ پیدائش
مشہور عالمِ دین سید ابوالاعلٰی مودودی کا یوم وفات
نامور شاعر امید فاضلی کا یوم پیدائش
نامور غزل گو شاعر عمران عامی کا یوم پیدائش
نامور استاد شاعر بیدل حیدری کا یوم وفات
نامور شاعرہ اور افسانہ نگار امرتا پریتم کا یومِ وفات