معروف شاعر بلراج کومل کا یومِ وفات

آج معروف شاعر، ادیب ، نقاد اور افسانہ نگار بلراج کومل کا یومِ وفات ہے

بلراج کومل 25 ستمبر 1928 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔
تقسیم وطن کے بعد انہوں نے دہلی کو اپنی رہائش گاہ بنایا اور اپنے علم ، محنت ، سچی لگن ، انکساری اور نرم گفتاری کے باعث لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی۔
بلراج کومل کا ادبی سفر تقسیم وطن کے ناگفتہ بہ حالات میں شروع ہوا۔ اردو ادب کے تئیں ان کے سنجیدہ رویہ کی وجہ سے ہی ان کا شمار صف اول کے ادیبوں میں ہوتا تھا۔
بلراج کومل کو ہندوستان کی سب سے اعلیٰ اور موقر ادبی تنظیم ساہتیہ اکادمی نے ان کے شعری مجموعے "پرندوں بھرا آسمان” کو 1985 میں ایوارڈ سے نوازا تھا۔
2011 میں انہیں حکومت ہند کی جانب سے پدم شری کا خطاب بھی ملا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : پتھر ہی رہو، شیشہ نہ بنو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کی تصنیفات میں میری نظمیں ، رشتۂ دل ، اگلا ورق ، آنکھیں اور پاؤں (کہانیوں کا مجموعہ) اور ادب کی تلاش (تنقید) شامل ہیں۔
وہ ایک معروف مترجم بھی تھے۔ انہوں نے انگریزی ، ہندی ، اردو اور پنجابی کی تخلیقات ایک دوسری زبانوں میں منتقل کیے ہیں۔
بلراج کومل 25 نومبر 2013 کو مختصر علالت کے بعد انتقال کر گۓ تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ نظم 1948 کی ہے جس نے بلراج کومل کا نام موقر ادیبوں اور شاعروں میں شامل کروایا۔ اس کی آفاقیت آج بھی قائم و دائم ہے
اکیلی
اجنبی اپنے قدموں کو روکو ذرا
جانتی ہوں تمہارے لیے غیر ہوں
پھر بھی ٹھہرو ذرا
سنتے جاؤ یہ اشکوں بھری داستاں
ساتھ لیتے چلو یہ مجسم فغاں
آج دنیا میں میرا کوئی بھی نہیں
میری امی نہیں
میرے ابا نہیں
میرے ننھے سے معصوم بھیا نہیں
میری عصمت کی مغرور کرنیں نہیں
وہ گھروندہ نہیں جس کے سائے تلے
لوریوں کے ترنم کو سنتی رہی
پھول چنتی رہی
گیت گاتی رہی
مسکراتی رہی
آج کچھ بھی نہیں
میری نظروں کے سہمے ہوئے آئینے
میری امی کے میرے ابا کے آپا کے
اور میرے ننھے سے معصوم بھیا کے خوں سے
ہیں دہشت زدہ
آج میری نگاہوں کی ویرانیاں
چند مجروح یادوں سے آباد ہیں
آج میری امنگوں کے سوکھے کنول
میرے اشکوں کے پانی سے شاداب ہیں
آج میری تڑپتی ہوئی سسکیاں
اک سازِ شکستہ کی فریاد ہیں
اور کچھ بھی نہیں
بھوک مٹتی نہیں
تن پہ کپڑا نہیں
آس معدوم ہے
آج دنیا میں میرا کوئی بھی نہیں
اجنبی اپنے قدموں کو روکو ذرا
سنتے جاؤ یہ اشکوں بھری داستاں
ساتھ لیتے چلو یہ مجسم فغاں
میری امی بنو
میرے ابا بنو
میری آپا بنو
میرے ننھے سے معصوم بھیا بنو
میری عصمت کی مغرور کرنیں بنو
میرے کچھ تو بنو
میرے کچھ تو بنو
میرے کچھ تو بنو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : نیلی جھیل کنارے ہے اس بھید بھری کا گاؤں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھویا کھویا اداس سا ہو گا
تم سے وہ شخص جب ملا ہو گا
قرب کا ذکر جب چلا ہو گا
درمیاں کوئی فاصلہ ہو گا
روح سے روح ہو چکی بدظن
جسم سے جسم کب جدا ہو گا
پھر بلایا ہے اس نے خط لکھ کر
سامنے کوئی مسئلہ ہو گا
گھر میں سب لوگ سو رہے ہوں گے
پھول آنگن میں جل چکا ہو گا
کل کی باتیں کرو گے جب لوگو
خوف سا دل میں رو نما ہو گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کا معاملہ وہی محشر وہی رہا
اب کے برس بھی رات کا منتظر وہی رہا
نومید ہو گئے تو سبھی دوست اٹھ گئے
وہ صید انتقام تھا در پر وہی رہا
سارا ہجوم پا پیادہ چوں کہ درمیاں
صرف ایک ہی سوار تھا رہبر وہی رہا
سب لوگ سچ ہے با ہنر تھے پھر بھی کامیاب
یہ کیسا اتفاق تھا اکثر وہی رہا
یہ ارتقا کا فیض تھا یا محض حادثہ
مینڈک تو فیل پا ہوئے اژدر وہی رہا
سب کو حروف التجا ہم نذر کر چکے
دشمن تو موم ہو گئے پتھر وہی رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہمان
سیہ پرندے
اگر وہ کوّے نہیں تھے تو کیوں
وہ آئے تھے اور منڈیر پر
کائیں کائیں کا راگ
ان کے انداز میں گھڑی بھر الاپ کر آنے مہماں کے
سیلِ امکاں میں
میرے تنکے بکھیر کر
اُڑ گئے کچھ ایسے
کہ لوٹ کر آج تک نہ آئے
جو میرا مہمان تھا
جسے میرے پاس آنا تھا
بھول کر بھی ادھر نہ آیا
برس گزرتے گئے
نہ در پر تھی کوئی دستک ، نہ کوئی آواز
اپنے گھر میں ہی اپنا مہمان
بن گیا میں !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : سانولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کارِ خاک
وہ زیرِ خاک ہیں
وہ لوگ ہم سے کوئی بھی وعدہ نہیں کرتے
ہمیں ہیں جو سدا بہروپ بھرتے ہیں
کبھی ماتم گساری کا
کبھی محرومئ جاوید کا، یادوں کے رشتوں کا
ہمیں ترتیب دیتے ہیں
وہ تقدیریں وہ زنجیریں
جو ان سے منسلک کرتی ہیں ہم شکوہ طرازوں کو
پریشاں بے سہاروں کو
ہماری داستانِ غم
ہمارا درد، اندوہ و فغاں
لاکھوں بہانے جیسے کرنے کے
ہمیں تجدید کی پرکار محفل میں
ہمیں پرواز کے امکان سے غافل بناتے ہیں
جو زیرِ خاک ہیں وہ کچھ نہیں کہتے ۔ وہ کچھ نہیں سنتے
شعورِ مرگ و ہستی سے
ہمیشہ دور رہتے ہیں
وہ کارِ خاک میں شام و سحر مصروف رہتے ہیں
وہ فکرِ ماضی و فردا نہیں کرتے
کوئی دعویٰ نہیں کرتے
وہ ہم شکوہ طرازوں سے کوئی شکوہ نہیں کرتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمسائگی
آج اس محفلِ فسردہ میں
رنگِ حُسنِ بہار کا سایہ
غم زدہ ہمدموں کے چہروں پر
ڈھونڈتا پھر رہا ہے تابانی
جانے پہچانے لوگ بیٹھے ہیں
پھر بھی ہمسائیگی کی لذت سے
ایسے غافل ہیں جیسے ان سب نے
نوچ پھینکا ہو اپنی فطرت کو
اہل محفل قریب آ جاؤ
چند گھڑیاں تو کاٹ لیں مل کر
شاید اس لمحہء مصیبت میں
چشمِ نم،داستانِ زخمِ دل
ان سے ہو جاۓ رونقِ محفل
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نامور شاعر سلام مچھلی شہری کا یوم پیدائش
محبتوں کے شاعر شِو کمار بٹالوی کا یومِ پیدائش
نامور ادیب ، نقاد اور شاعر ڈاکٹر فرمان فتح پوری کا یوم وفات
پنجابی زبان کی نامور شاعرہ اور افسانہ نگار امرتا پریتم کا یومِ پیدائش
معروف شاعرہ ثمینہ راجا کا یوم پیدائش
مشہور عالمِ دین سید ابوالاعلٰی مودودی کا یوم وفات
ممتاز اردو شاعر اور مفسر قرآن حمید نسیم کی برسی
معروف شاعر انیس ناگی کا یومِ وفات
نامور استاد شاعر بیدل حیدری کا یوم وفات
نامور شاعرہ اور افسانہ نگار امرتا پریتم کا یومِ وفات

اشتہارات