معروف شاعر جگت موہن لال رواں کا یوم پیدائش

آج معروف شاعر جگت موہن لال رواں کا یوم پیدائش ہے

موہن لال رواںرواںؔ کا پورا نام جگت موہن لال رواں تھا اور وہ قصبہ مورانواں ضلع اناّؤ میں بروزدوشنبہ ۱۴؍جنوری ۱۸۸۹ ؁ء مطابق ۱۱؍جمادی الاولیٰ۱۳۰۶ ؁ھ کو پیدا ہوئے۔رواںؔ ذات سے کائستھ تھے اور ان کے والد چودھری گنگا پرساد اپنے والد بخشی مہی لال کے ہمراہ اپنا آبائی مقام موضع مچھریٹہ ضلع سیتا پورچھوڑ کر انّاؤ آگئے تھے۔ڈاکٹر ظفر عمر قدوائی جو خود انّاؤکے رہنے والے ہیں اپنی ایک کتاب ’جگت موہن لال رواں حیات وادبی خدمات‘ جس پہ انھیں لکھؤیونیور سٹی نے ڈاکٹر آف فلاسفی کی سند عطا کی تھی رواںؔ کے خاندانی حالات بیان کرتے ہوئے بخشی مہی لال کے مطابق لکھتے ہیں۔
’’اس گھرانے کے ایک بزرگ بخشی مہی لال جو رواںؔ کے جدامجد تھے شاہانِ اودھ کی فوج میں بعہدۂ منشی فائز تھے یہ بے حد ایماندار اور محنتی شخص تھے۔چناچہ ان کی دیانت اور نمایاں کار کردگی کے صلے میں انھیں چودھری کے خطاب سے نوازا گیاتھا۔یہ زمانہ ان کی بڑی خوشحالی کا تھا لیکن غدر ۱۸۵۷ ء ؁ کے بعد بخشی مہی لال کو ان کے عہدے سے سبکدوش کر دیا گیا۔اور ہر طرح کی دارو گیر شروع ہوئی ان کی ساری دولت اور ثروت چھن گئی اور ان پر عرأہ حیات تنگ ہو گیا۔مجبوراً بخشی مہی لال ترکِ وطن کرکے اپنی سسرال قصبہ مورانواں ضلع انّاؤ چلے آئے‘‘۔
(جگت موہن لال رواں حیات وادبی خدمات:ڈاکٹر ظفر عمر قدوائی: ص ۱۵)
موہن لال رواں کے والد گنگا پرساد کے پانچ بھائی اور بھی تھے ۔گنگا پرساد نے انٹر نس تک تعلیم حاصل کی تھی اور پھر انّاؤ ہی میں مختاری کے عہدے پر فائض ہوگئے تھے۔ان کی شادی قصبہ جائس ضلع رائے بریلی کی ایک لڑکی سے ہوئی تھی اور گنگا پرساد کے گھر بھی پانچ لڑکے پیدا ہوئے۔جگت موہن لال اپنے والد کی چوتھی اولاد تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : من موہن کی یاد میں ہر پل ساون بن کر برسے نیناں
۔۔۔۔۔۔۔۔
’’چودھری گنگا پرساد کے چوتھے اور سب سے اقبال مند بیٹے جگت موہن لال تھے۔ انھوں نے رواںؔ تخلص اختیار کیا تھا لیکن اپنے حلقۂ احباب میں جگت مشہور تھے‘‘۔
(تذکرے اور تبصرے از جلیل قدوائی ،مطبوعۂ ایجوکیشنل پریس،کراچی)
موہن لال رواں نے اردو اور فارسی کی ابتدائی تعلیم انّاؤ کے ایک مکتب میں اپنے استاد مولوی سبحان اللہ خان سے حاصل کی اور اپنے والد کے انتقال کے بعد شدیدصدمے کی وجہہ سے انھوں نے اپنا تعلیمی سلسلہ منقطہ کردیا مگر رواںؔ کے بڑے بھائی کنھیا لال نے ان کی تعلیم کو جاری رکھنے کے لئے رواںؔ کی آب و ہوا کو تبدیل کرنا مناسب جانا اور انھیں انّاؤ سے مورانواں لے آئے اور کیدار ناتھ ڈائمنڈ جوبلی ہائی اسکول میں داخل کردیا بچپن میں گھریلو مسائل نے رواںؔ کو بہت پریشان کیا والد کے بعد والدہ کے فوری انتقال جیسے صدموں اور دیگر معاشی بہران نے رواںؔ کو خاموش طبیعت بنا دیا مگر انھوں نے دوبارا تعلیم کا ساتھ نہیں چھوڑا اور دسویں جماعت میں اول نمبر وں سے کامیاب ہوئے اور پوری دلچسپی اور محنت سے آگے تک تعلیم حاصل کرتے رہے۔میٹرک کے بعد رواںؔ لکھأو آگئے اور کینگ کالج میں داخلہ لے لیا ان کی کامیابی سے خوش ہو کر کینگ کالج کے پرنسپل نے ان کے لیے وظیفہ مقرر کردیا اور رواںؔ کو تعلیم حاصل کرنے میں کچھ آسانیاں ہوگیں۔انٹرمیڈیٹ میں بھی اول آئے خم خانۂ جاوید کا ایک اقتباس دیکھئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : اب کے لبوں پہ زرد ، تو آنکھوں میں لال بھر
۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اپنی خداداد صلاحیت ذہانت ،شوق،علم اور محنت کی بدولت موہن لال رواں نے ۱۹۰۹ ؁ء میں انٹر میڈیٹ کا امتحان بھی درجہ اول میں پاس کیا جس کے صلے میں انھیں کالج کی طرف سے نقرئی تمغے کے اعزاز کے ساتھ آئندہ تعلیم کے لئے وظیفۂ علمی بھی مل گیا‘‘۔
( خم خانۂ جاوید جلد سوم،از لالہ سری رام،ص۵۳۶)
پھر اس کے بعد رواںؔ بی۔اے میں داخل ہوئے ،بی۔اے میں انگریزی ادب ،فارسی اور فلسفہ ان کے اختیاری مضامین تھے ڈاکٹرعمر قدوائی اپنی کتاب جگت موہن لال رواں حیات وادبی خدمات میں رقم طراز ہیں۔
’’اس زمانے میں کالج کا قاعدہ تھا کہ جو طلباء بی۔اے کے امتحان میں اول مقام حاصل کرتے تھے وظیفۂ علمی کے علاوہ ان کے نام سنہری حرفوں میں اعزازی بورڈ پر لکھ دیئے جاتے تھے اس اصول سے طلباء کی بڑی ہمت افزائی ہوتی تھی‘‘۔
(جگت موہن لال رواں حیات وادبی خدمات از ظفر عمر قدوائی :ص۱۹)
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : میرے بنے کی بات نہ پوچھو ، میرا بنا ہریالہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
عزیز لکھؤی نے رواںؔ کے شعری مجموعہ ’روح رواں‘کے دیباچے میں صفحہ ۴ پر بی۔اے میں اول نمبر حاصل کرنے کی ان کی ترغیب کے متعلق لکھا ہے۔
’’پہلے دن جب میں کالج میں داخل ہوا تو اپنے پیش روؤں کے نام دیکھ کر مجھے یہ خیال پیدا ہوا کہ کاش یہ عزت مجھے بھی حاصل ہوتی۔‘‘
اور پھر رواںؔ اس عزت کو حاصل کرنے میں کوشاں ہو گئے آ خر کار محنت رنگ لائی اور ۱۹۱۱ ء ؁ میں رواںؔ بی۔ اے میں بھی اول نمبر سے کامیاب ہوئے اور ان کا نام سنہری حروف میں بورڈ پر چسپہ کردیا گیا۔اس کے بعد ۱۹۱۳ء ؁ میں انگریزی ادب میں فرسٹ ڈویزن میں ایم۔اے کیا اور پھر الہ آباد یونیورسٹی سے ایل ایل بی کا امتحان ۱۹۱۶ء ؁ میں پاس کیاخم خانۂ جاوید جلد سوم میں صفحہ ۵۳۶ پر اس کی تفصیل موجود ہے۔
وکالت کی پڑھائی پوری کرکے و ہ انّاؤ آگئے اور بہت جلد وہاں کے اچھے وکیلوں میں ان کا شمار کیا جانے لگا۔جلیل قدوائی جو ان کے ہم عصر تھے ان کی وکالت کے مطالق لکھتے ہیں۔
’’بحیثیت فوجداری کے ایک وکیل کے رواںؔ انّاؤ میں چوٹی پر تھے ان کی قانونی قابلیت کے متعلق میں ایک ماہر کی حیثیت سے رائے نہیں دے سکتا اس لئے کہ میری اپنی قابلیت اس حد تک مشتبہ ہے کہ کئی سال کی متواتر کوشش کے باوجود وکیل نہ ہو سکا لیکن اتنا جانتا ہوں کہ انّاؤ بار ایسوسی ایشن کے تمام وکلا ء حتٰی کہ خود ان کے استاد اور فوجداری وکلاء کے میر لشکر رائے بہادر چودھری جگناتھ پرساد سابق ایم۔ایل ۔سی بھی ان کی قابلیت کے معترف و مدّاح تھے‘‘۔
(تذکرے اور تبصرے از جلیل قدوائی ،مطبوعۂ ایجوکیشنل پریس،کراچی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : یہ لال ڈبیا میں جو پڑی ہے وہ منہ دکھائی پڑی رہے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی علمی کاوشوں سے رواںؔ ایک کامیاب وکیل تو بن گئے مگر شاعری کا شوق انھیں بچپن ہی سے تھا۔اپنی زندگی کا پہلا شعر انھوں نے نو سال کی عمر میں کہاتھا اور پھر پوری زندگی ان پر نزول ہوتا رہا۔رواںؔ زبان داں تھے فارسی ،اردواور انگریزی میں انھیں مہارت حاصل تھی اور شاعری کا حسن ان کو اس مالکِ حقیقی کی جانب سے حاصل ہوا تھا۔یہ خدا داد صلاحیت رواںؔ کے کلام میں ہمیں بخوبی نظر آتی ہے ان کی شاعری میں زبان کی ندرت،استعمالِ تراکیب ،رزمیہ انداز،شعری حسن،تشبیحا ت وکنایات کا محل استعمال اور بیانیہ کی قدرت کو صاف دیکھا جا سکتا ہے۔رواںؔ کا شجرۂ شاعری آتشؔ سے جا ملتا ہے وہ اپنے عہد کے مشہورِ زمانہ شاعر مرزا محمد ہادی عزیز ؔ لکھؤی کے عزیز شاگردوں میں سے تھے۔عزیز ؔ لکھؤی نے اپنے کئی شاگردوں کو شعر کی فنّی صلاحیتوں سے آشنا کروایا۔ان کے شاگردوں میں جوشؔ ملیح ٓبادی اور اثرؔ لکھأوی جیسے معروف شعرا کا شمار ہوتا ہے۔ عزیز ؔ وہ استاداساتذہ شاعر تھے جنہوں نے ہمیشہ اپنے شاگردوں کو وسعتِ کلام سے ذیادہ وسعتِ مطالعہ کی طرف راغب کیااور ایک سے ایک ماہرِ فن اس زبان اردو کو بخشا۔ بسیار گوئی کسی شاعر کی کامیابی کی دلیل نہیں اس کے بر عکس مطالعہ کی روشنی میں کہا گیا اچھا کلام وہ چاہیں کتنا ہی کم ہو شاعر کو زندہ جاوید کرنے کے لئے کافی ہے۔عزیز بھی انھیں اساتذہ میں سے تھے جن کے شاگردوں نے خوب کہا پر اچھا کہا اور اپنے علم وہنر سے قوم ومعاشرے کی اصلاح کا کام کیا۔
عزیز کے شاگردوں کے مطابق ’رحم علی ہاشمی‘ کی تحریر سے ایک اقتباس
’’اس موقع پر تمام تلامذہ کا ذکر طوالت سے خالی نہیں ہے ،چند سر بر آوردہ اصحاب کے نام بہ ترتیب حروف تہجّی لکھتا ہوں جو اس وقت ملک کے لئے سرمایۂ نازہیں۔ادبی اخبارات وصحائف جن کے افادات سے مملو رہتے ہیں۔
۱) میرزا جعفر علی خاں اثرؔ لکھأوی ۲) حکیم سید علی آشفتہؔ لکھۂوی
۳) محمد یٰسین صاحب تسکین مورانو ی ۴) شیام موہن لال جگر ؔ بریلوی
۵) شبیر حسن خاں جوش ؔ ملیح آبادی ۶) عبدالرشید صاحب رشیدؔ لکھؤی
۷) جگت موہن لال رواںؔ انّاؤی ۸) شیفتہ ؔ لکھۂوی
۹) کیفیؔ لکھؤی
(یادیں از رحم علی ہاشمی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : لبِ رسول کی دعا، حسین تھا حسین ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اس عہد کے مشہور شعرأ کی فہرست ہے جو عزیز لکھؤی کے شاگرد تھے اور ہندوستان میں اپنی شعری حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔جن میں رواںؔ کا بھی شمار کیا گیا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رواںؔ اپنے عہد میں تو بہت کامیاب شاعروں میں شمار کئے جاتے تھے اور آج بھی وہ ایک مشہور نام ہیں مگر ان کی پیغامی اور آفاقی شاعری پر جتنا کام ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہوا۔
رواںؔ کے دو مجموعہ ’روح رواں‘اور ’رباعیاتِ رواںؔ ‘شائع ہوئے اور ایک مثنوی’ نقدِرواں‘جو اردو زبان میں مہاتما گوتم بدھ پر لکھی گئی بے مثال مثنوی ہے ۔رواںؔ نے غزلیات اورنظمیات میں بھی جوہر دیکھاے ہیں اور مثنوی میں بھی مگر انھیں رباعیات کا صحیح شاعر کہا جا سکتا ہے۔رواںؔ کو اردو کا عمر خیام کہا جاتا ہے مگر فارسی کے عمر خیام کو جتنی شہرت حاصل ہوئی صد حیف کہ اردو کے عمر خیام کو اس کا دسواں حصّہ بھی نصیب نہ ہوسکا۔اپنی پینتالس سالہ زندگی کا ایک بڑا حصہ رواںؔ نے اردو شاعری کو دیااور اردو زبان میں شعروسخن کی بیش بہا خدمت سر انجام دیں
٢٦ستمبر ۱۹۳۴ء ؁ میں پینتالس سال کی عمر میں رواںؔ کا انتقال ہوگیا،انھوں نے یہ آخری شعر اپنی مثنوی نقدِ رواں کے لئے کہا تھا۔
گو تھا پانی سرد جھرنوں کا مگر
گرم گرتا تھا بساطِ خاک پر
رواںؔ کے انتقال پر ان کے ہم عصروحشی کانپوری نے ایک تاریخی نظم کہی،جس کا اک قطعہ یہاں نقل کر رہا ہوں۔
کون یہ عالم کی نظروں سے نہاں ہو کر چلا
توڑکر بندِ عناصر شکلِ جاں ہو کر چلا
منزلِ ہستی سے گردِ کارواں ہو کر چلا
عالمِ ارواح کو روحِ رواں ہو کر چلا
۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔
رواںؔ کس کو خبر عنوان آغاز ِجہاں کیا تھا
زمیں کا کیا تھا نقشہ اور رنگِ آسماں کیا تھا
یہی ہستی اسی ہستی کے کچھ ٹوٹے ہوئے رشتے
وگرنہ ایسا پردہ میرے اُن کے درمیاں کیا تھا
ترا بخشا ہوا دل اور دل کی یہ ہوسکاری
مرا اس میں قصور اے دسگیر عاصیاں کیا تھا
اگر کچھ روز زندہ رہ کے مرجانا مقدر ہے
تو اس دنیا میں آخر باعث تخلیقِ جاں کیا تھا
ہم اتنے فاصلے پر آگئے ہیں عہدِ ماضی سے
خبر یہ بھی نہیں اجداد کا نام و نشاں کیا تھا
کسی برقِ تجلّی پر ذرا سا غور کر لینا
اگر یہ جاننا ہو عالم روح رواںؔ کیا تھا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

معروف شاعر باقی صدیقی کا یوم وفات
نامور شاعرہ رحمت النساء نازؔ کا یوم وفات
نامور افسانہ و ڈرامہ نگار میرزا ادیب کا یوم وفات
معروف شاعر سکندر علی وجد کا یومِ پیدائش
معروف مرثیہ نگار قیصر بارہوی کا یوم وفات
نامور شاعر شمس العلماء امداد امام اثر کا یوم پیدائش
جدید عہد کے نامور غزل گو شاعر عمیر نجمی کا یوم پیدائش
معروف شاعر رئیس امروہوی کا یوم وفات
میر تقی میر کا یوم پیدائش
نامور شاعر امید فاضلی کا یوم پیدائش

اشتہارات