معروف شاعر شوکت واسطی کا یوم پیدائش

آج معروف شاعر شوکت واسطی کا یوم وفات ہے


شوکت واسطی یکم اکتوبر 1922ء کو ملتان میں پیدا ہوئے،
شوکت واسطی کا پورا نام صلاح الدین شوکت واسطی تها اور والد کا نام سید نعمت علی واسطی تھا، انہوں نے گورڈن کالج راولپنڈی سے بی اے کے بعد ایڈورڈ کالج پشاور سے تاریخ میں ماسٹر کیا اور پهر اسی شعبہ سے منسلک رہے اور ادب کی خدمت کرتے رہے. مرحوم بہت ساری کتابوں کے مصنف تهے جن میں گیت نظم طویل نظم غزل تراجم سوانح اور تاریخ کی کئی کتابیں شائع هو چکی ہیں. ان کی کلیات بھی ” کلیاتِ شوکت واسطی ” کے نام سے چار جلدوں میں چھپ چکی ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : ممتاز شاعر شوکت علی خاں فانی بدایونی کا یوم پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شوکت واسطی پر لکھا گیا ایم اے کا مقالہ ہے "شوکت واسطی – احوال و آثار” جسے ،عاصمہ کوثر نے لکھا، مقالہ کی نگران ڈاکٹر روبینہ ترین،اور بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے 2000ء میں پیش ہوا،
تصانیف
رسالت و خلافت
تاریخ پاک و ہند
جلترنگ
ذوق خامہ
کوئے بتاں
راگ کی آگ
خرام خانہ (1975ء/شاعری)
کربیہ طربیہ(ترجمہ)
کوئے مغاں (1973ء/شاعری)
نقد خیال ( غزلوں کا انتخاب)
یاد آتی ہے راہی کو (1983ء/منظوم سفرنامہ)
شیشۂ ساعت (1963ء/شاعری)
کہتا ہوں سچ(خودنوشت)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : حقیقت میں تو اس دنیا کی جو یہ شان و شوکت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بکھرے تو پھر بہم مرے اجزا نہیں ہوئے
سرزد اگرچہ معجزے کیا کیا نہیں ہوئے
جو راستے میں کھیت نہ سیراب کر سکے
کیوں جذب دشت ہی میں وہ دریا نہیں ہوئے
انسان ہے تو پاؤں میں لغزش ضرور ہے
جرم شکست جام بھی بے جا نہیں ہوئے
ہم زندگی کی جنگ میں ہارے ضرور ہیں
لیکن کسی محاذ سے پسپا نہیں ہوئے
انساں ہیں اب تو مدتوں ہم دیوتا رہے
شکلیں نہیں بنیں جو ہیولیٰ نہیں ہوئے
ٹھہرو ابھی یہ کھیل مکمل نہیں ہوا
جی بھر کے ہم تمہارا تماشا نہیں ہوئے
ہر سر سے آسمان کی چھت اٹھ نہیں گئی
کب تجربے میں شہر یہ صحرا نہیں ہوئے
شوکتؔ دیار شوق کی رونق انہی سے ہے
جو اپنی ذات میں کبھی تنہا نہیں ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب بات ہے دن بھر کے اہتمام کے بعد
چراغ ایک بھی روشن ہوا نہ شام کے بعد
سناؤں میں کسے روداد شہر نا پرساں
کہ اجنبی ہوں یہاں مدتوں قیام کے بعد
خرد علیل تھی دور شراب سے پہلے
قدم میں آئی تھی لغزش شکست جام کے بعد
ستم ظریفیٔ تاریخ ہے کہ مسند گیر
سدا خواص ہوئے انقلاب عام کے بعد
حباب سوچ کے کیا ہم رکاب موج ہوا
کہ بیٹھ جانا تھا جب ایک آدھ گام کے بعد
رہے چراغ دریچے میں در کھلا رکھنا
مسافر آن نکلتے ہیں بعض شام کے بعد
کبھی کبھی تو ہو شوکتؔ شدید یہ احساس
کہ ہم طیور قفس میں پڑے ہیں دام کے بعد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر شوکتؔ واسطی کا یوم وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وابستہ ہو گئے ہیں قدم رہ گزر کے ساتھ
ہم چل پڑے تھے ایک حسیں ہم سفر کے ساتھ
اک دن دھوئیں کی طرح نہ باہر نکال دے
ہمسایہ آ بسا ہے برا میرے گھر کے ساتھ
گلچیں پہ نکتہ چین نہ ہو باغبان خود
گل شاخ سے اتار رہے ہیں ہنر کے ساتھ
اس تیز گام شخص نے منزل کو جا لیا
جو ہر پڑاؤ پر نہ رکا راہبر کے ساتھ
دیتے رہے حساب کھڑے زاہدان خشک
بخشش ہوئی ہے رند کی دامان تر کے ساتھ
پیشہ کے اعتبار سے وہ سنگ بار ہیں
جو مدعی خلوص کے ہیں شیشہ گر کے ساتھ
اک خوبرو سے عشق میں سودا ہوا ہے طے
دل کو بھی رہن کر دیا شوکتؔ نظر کے ساتھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وابستہ ہو گئے ہیں قدم رہ گزر کے ساتھ
ہم چل پڑے تھے ایک حسیں ہم سفر کے ساتھ
اک دن دھوئیں کی طرح نہ باہر نکال دے
ہمسایہ آ بسا ہے برا میرے گھر کے ساتھ
گلچیں پہ نکتہ چین نہ ہو باغبان خود
گل شاخ سے اتار رہے ہیں ہنر کے ساتھ
اس تیز گام شخص نے منزل کو جا لیا
جو ہر پڑاؤ پر نہ رکا راہبر کے ساتھ
دیتے رہے حساب کھڑے زاہدان خشک
بخشش ہوئی ہے رند کی دامان تر کے ساتھ
پیشہ کے اعتبار سے وہ سنگ بار ہیں
جو مدعی خلوص کے ہیں شیشہ گر کے ساتھ
اک خوبرو سے عشق میں سودا ہوا ہے طے
دل کو بھی رہن کر دیا شوکتؔ نظر کے ساتھ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

معروف شاعر اعتبار ساجد کا یوم پیدائش
یوروپین شاعر جان محمد آزاد کا یوم وفات
معروف شاعر رضی اختر شوق کا یومِ وفات
معروف مرثیہ نگار قیصر بارہوی کا یوم وفات
معروف شاعر شاذ تمکنت کا یومِ وفات
اردو اور پنجابی کے معروف شاعر شیر افضل جعفری کا یوم پیدائش
ممتاز شاعر شوکت علی خاں فانی بدایونی کا یوم پیدائش
عالمِ دین سید ابوالاعلٰی مودودی کا یوم پیدائش
ممتاز اردو شاعر اور مفسر قرآن حمید نسیم کی برسی
نامور غزل گو شاعر عمران عامی کا یوم پیدائش

اشتہارات