مفلوج کئے پہلے مرے ہاتھ مکمل

 

مفلوج کئے پہلے مرے ہاتھ مکمل

پھر چھین لیا مجھ سے مرا ساتھ مکمل

 

اُس پر کسی پنچھی کا ٹھکانہ نہیں ہوتا

جس پیڑ کے جھڑ جاتے ہیں پھل پات مکمل

 

جب جیت گیا اُس سے تو پھر جا کے کھُلا یہ

میں جیت جسے سمجھا وہ تھی مات مکمل

 

دو گام کی سنگت ہمیں منظور نہیں ہے

دینا ہے اگر تم کو تو دو ساتھ مکمل

 

خواہش کسے ہوتی نہیں اُس باغِ ارم کی

قسمت ہی سے ہوتی ہیں مُناجات مکمل

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں کار آمد ہوں یا بے کار ہوں میں
خاک اُڑتی ہے رات بھر مجھ میں
تصویر تیری یوں ہی رہے کاش جیب میں
اتنا پڑا ہے جسم پر گردوغبارِ عشق
تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں
غم چھایا رہتا ہے دن بھر آنکھوں پر
مِری شہ رگ ہے، کوئی عام سی ڈوری نہیں ہے
اب کچھ بساطِ دستِ جنوں میں نہیں رہا
تیری آغوش کی جنت سے نکالے ہوئے ہم
وصل ہو ہجر ہو کہ تُو خود ہو

اشتہارات