مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا

حقا کہ خداوند ہے تو لوح و قلم کا

 

جس مسند عزت پہ کہ تو جلوہ نما ہے

کیا تاب گزر ہووے تعقل کے قدم کا

 

بستے ہیں ترے سائے میں سب شیخ و برہمن

آباد ہے تجھ سے ہی تو گھر دَیر و حَرم کا

 

ہے خوف اگر جی میں تو ہے تیرے غضب کا

اور دل میں بھروسہ ہے تو تیرے ہی کرم کا

 

مانند حباب آنکھ تو اے درد کھلی تھی

کھینچا نہ پر اس بحر میں عرصہ کوئی دم کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمین و آسماں گُونجے بیک آواز، بسم اللہ
خوش قسمتی ہے میری
اَزل سے یہی ایک سودا ہے سر میں
میری بس ایک آرزو چمکے
سخی داتا نہ کوئی تیرے جیسا
کرو رب کی عبادت، خدا کا حکم ہے یہ
تو خبیر ہے تو علیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے
محبت کا نشاں ہے خانہ کعبہ
خدا ہی مرکزِ مہر و وفا ہے
کہوں میں حمدِ ربّی کس زباں سے