مقدّر میں جہاں بھر کے فنا ہے

مقدّر میں جہاں بھر کے فنا ہے

مرے مولا ! مگر تجھ کو بقا ہے

 

تجھے ہی کبریائی بس روا ہے

مرے اللہ ! تُوسب سے بڑا ہے

 

میں تیرا ہوں ، ترا ہوں ، بس ترا ہوں

تُو میرا ہے ، مرا ہے ، بس مرا ہے

 

عبادت کرتا ہُوں میں بس تری ہی

مرے اللہ تُو میرا خدا ہے

 

تُو میرا ہر گھڑی ، ہر پل کا ساتھی

تُو میرا راہبر ہے رہنما ہے

 

تُو حل کرتا ہے سب کی مشکلوں کو

تُو ہر انسان کا مشکل کشا ہے

 

تُو ہی کرتا ہے غم میں دستگیری

نگہباں ہے مرا ، غم آشنا ہے

 

اطاعت ہے نبی کی ، رب کی طاعت

یہی قرآن میں لکھّا ہُوا ہے

 

سرِ محشر مری بھی لاج رکھنا

فقط رحمت کا تیری آسرا ہے

 

نبی کا امتی ہم کو بنایا

کرم یا رب ترا بے انتہا ہے

 

الہیٰ ! بخش دے دانش کو اپنے

یہ بندہ ہے تو عاصی ، پر ترا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محمد مصطفیٰ کا آستاں ہے
شہرطیبہ کے دروبام سے باندھے ہوئے رکھ
جان و ایماں سے بڑھ کے پیارا ہے
مٹا دل سے غمِ زادِ سفر آہستہ آہستہ
سنہرے موسم
سلام اے محمد! ، اے احمد! ، اے حامد!​
مرے خدا کو جو پیارا ہے یارسولؐ اللہ
ہے حبیب رب کا مرا نبیؐ وہ جہانِ جشن میں روشنی
رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بُو پسند
مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے

اشتہارات