مقصودِ دعا قلب پہ ظاہر ہوا جب سے

مقصودِ دعا قلب پہ ظاہر ہوا جب سے

میں نے تو ترا عشق ہی مانگا تیرے رب سے

 

بے مثل ترا نام ہے ، بے مثل گھرانا

انسان کی عظمت ہے ترے نام و نسب سے

 

اے نور! ترا نور ہے مسجودِ ملائک

آدم کو یہ اعزاز ملا تیرے سبب سے

 

ہے سورۂ اخلاص سے ظاہر یہ مشیت

توحید کا اعلان ہو محبوب کے لب سے

 

اُس نجم رسالت کی زیارت کا ہوں طالب

جبریل نے دیکھا تھا جسے چشمِ ادب سے

 

آدم تو بہت بعد میں تخلیق ہوا ہے

پھر کون بتائے کہ ترا نور ہے کب سے

 

شب میں نے ترے روضے کی تصویر کو چُوما

اُلفت سے ، عقیدت سے ، محبت سے ، ادب سے

 

والشمس کے جلوے ہیں تب و تابِ سحر میں

وَالیل کی رنگت ہے عیاں صورتِ شب میں

 

مضموں یہ فزوں تر ہے مرے ظرفِ سُخن سے

بخشش یہ سوا ہے مرے دامانِ طلب سے

 

مدحت کا یہ منصب مرے داتا کی عطا ہے

انعام ملا ہے مجھے سلطانِ عرب سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پھر نعتِ مصطفیٰؐ پر راغب ہوئی طبیعت
نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا
اے شافع امم شہ ذی جاہ لے خبر
مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دل سے
سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
مری حیات کا گر تجھ سے انتساب نہیں
نعت کیا ہے، سرمدی جذبات کی ترسیل ہے
اللہ کے حبیب شہِ انبیاء کی شان
اُس ایک ذات کی توقیر کیا بیاں کیجے