اردوئے معلیٰ

Search

ملاحوں کا تو بس دانہ پانی ہے

کشتی بھی اس کی ہے جس کا پانی ہے

 

پیاس کی پیدائش تو کل کا قصہ ہے

اس دھرتی کا پہلا بیٹا پانی ہے

 

رونے والے نے تاخیر سے کام لیا

لگتا ہے تالاب میں پچھلا پانی ہے

 

اس دریا کو ڈوب کے سننا پڑتا ہے

آوازوں سے ملتا جلتا بانی ہے

 

بڑی نہیں ہے ورنہ موج سمندر سے

اس کی خوبی یہ ہے چلتا پانی ہے

 

تیرے میرے کھیتوں کا یارانہ ہے

اور اک ہم ہیں اپنا جھگڑا پانی ہے

 

سیم ذدہ گھر میں بھی کتنا پیاسا ہوں

دیواروں کے اندر کتنا پانی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ