ملا محبوب ہے رب العلی کا

ملا محبوب ہے رب العلی کا

عجب انداز ہے فضل خدا کا

 

محبت بانٹنا ہے کام اس کا

جو بھی ہے نام لیوا مصطفٰی کا

 

زمانہ مجھ سے کرتا ہے محبت

کہ ہوں مدحت سرا خیرالوری کا

 

بنے گرویدہ سب عرب و عجم کے

یہ بھی اک معجزہ ہے دوسرا کا

 

یہ جاں ناموس پر قربان کر دوں

نصیبا اوج پر ہو پھر وفا کا

 

رواداری بھی سکھلائی نبی نے

اخوت بھی سبق ہے اس شہہ کا

 

خلیل اک خواب اقدس کی ہے خواہش

کہ چہرہ دیکھ لوں میں دل ربا کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھے چاہیے مرے مصطفیٰ ترا پیار، پیار کے شہر کا
معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
مدحتِ مصطفیٰ گنگنانے کے بعد
یہ جُود و کرم آپؐ کا ہے، فیض و عطا ہے
ہم درِ مصطفیؐ پہ جائیں گے
مرے گھر کا جو دروازہ کھلا ہے
فراق و ہجر کا دورانیہ ہو مختصر، آقاؐ
آتی ہے رات دن اک آواز یہ حرم سے
اک نور سے مطلعِ انوار مدینہ