اردوئے معلیٰ

Search

ملتی نہیں منزل تو مقدر کی عطا ہے

یہ راستہ لیکن کسی رہبر کی عطا ہے

 

کب میری صفائی کوبھلا مانے گی دنیا

الزام ہی جب ایسے فسوں گر کی عطا ہے

 

جچتے نہیں آنکھوں میں شبستان و گلستاں

یہ دربدری ایسے کسی در کی عطا ہے

 

ساحل کے خزانے نہیں دامن میں ہمارے

جو کچھ بھی ملا، گہرے سمندر کی عطا ہے

 

اُجرت میں ملی ہے مجھے اقلیمِ سخن یہ

ہر شعر کسی زخمِ ستمگر کی عطا ہے

 

محشر میں بنے گی مری بخشش کا سبب یہ

نسبت جو مجھے ساقی کوثر کی عطا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ