اردوئے معلیٰ

ملکِ خاصِ کبریا ہو

مالکِ ہر ماسوا ہو

 

کوئی کیا جانے کہ کیا ہو

عقل ِعالَم سے ماوَرا ہو

 

کنزِ مکتوم ِازل میں

دُرِّ مکنونِ خدا ہو

 

ق

 

سب سے اوّل سب سے آخر

ابتداء ہو انتہا ہو

 

تھے وسیلے سب نبی، تم

اصلِ مقصودِ ہدیٰ ہو

 

پاک کرنے کو وضو تھے

تم نمازِ جانفزا ہو

 

سب بِشارت کی اذاں تھے

تم اذاں کا مدّعا ہو

 

سب تمہاری ہی خبر تھے

تم مؤخر مبتدا ہو

 

قربِ حق کی منزلیں تھے

تم سفر کا منتہٰی ہو

 

قبل ذکر اضمار کیا جب

رتبہ سابق آپ کا ہو

 

طورِ موسیٰ چرخِ عیسیٰ

کیا مساویِٔ دَنٰے ہو

 

سب جہت کے دائرے میں

شش جہت سے تم ورا ہو

 

سب مکاں تم لا مکاں میں

تن ہیں تم جانِ صفا ہو

 

سب تمہارے در کے رستے

ایک تم راہِ خدا ہو

 

سب تمہارے آگے شافع

تم حضورِ کبریا ہو

 

سب کی ہے تم تک رسائی

بارگہ تک تم رسا ہو

 

وہ کلس روضے کا چمکا

سر جھکاؤ کج کلاہو

 

وہ درِ دولت پہ آئے

جھولیاں پھیلاؤ شاہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات