اردوئے معلیٰ

Search

ملی جب سے غلامی حضرت شبیر کے در کی

چھڑی ہے قدسیوں میں گفتگو میرے مقدر کی

 

اٹھے طوفان غم یا آندھیاں آلام کی آئیں

رہے شمع محبت دل میں روشن ابن حیدرکی

 

جو دشت کربلا میں خون کی بوندوں نے لکھی ہیں

کبھی وہ مٹ نہیں سکتیں لکیریں ہیں وہ پتھر کی

 

لہو تازہ ٹپکتا ہے ابھی تک زخم باطل سے

یہی تو کاٹ ہے صبر و رضا کے تیز خنجرکی

 

جوابِ ہر ستم دینا حسینِ کربلا جیسا

تمہیں ایمان والو ہے قسم نیزہ چڑھے سر کی

 

تہی دامن لیے اسلام نے حسرت سے جب دیکھا

لٹا دی ابن حیدر نے کمائی زندگی بھر کی

 

کبھی سوچا بھی ہے انکی حفاظت کیسے ہو پائی

صدائیں سن رہے ہیں آپ جو اللہ اکبر کی

 

علی کے لاڈلوں کی پیاس ہی کچھ اور تھی ورنہ

زمین کربلا سے پھوٹ پڑتی نہر کوثر کی

 

شہ کونین کا بیٹا بھلا دنیا کو چاہے گا ؟

اڑانے والے تو یونہی اڑا دیتے ہیں بے پر کی

 

نکھر کر روپ اسکا جو ہوا جاذب نظر اتنا

یہ سرخی چہرۂ اسلام پر ہے خونِ اصغر کی

 

کفالت مصطفیٰ کی طائر سدرہ کی دربانی

زہے یہ شان و شوکت فاطمہ زہرا ترے گھر کی

 

زہے قسمت ہمیں حاصل پناہِ آل زہرا ہے

نہ ہمکو فکر دنیا کی نہ ہمکو فکر محشر کی

 

قلم ہے نورؔ کا اوصاف بھی ہیں نور والوں کے

عقیدت چاہتی ہے روشنائی ماہ و اختر کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ