منتظر تیرے سدا عقدہ کُشا رکھتے ہیں

منتظر تیرے سدا عقدہ کُشا رکھتے ہیں

دلِ زندہ کے لئے حق سے وِلا رکھتے ہیں

 

گُھٹ کے مر جاتے ترا غم جو نہیں ہوتا نصیب

سانس لینے کے لئے تازہ ہوا رکھتے ہیں

 

لاشِ قاسم پہ یہ شبیر کی حالت دیکھی

جسم کے ٹکڑوں کو گٹھری میں اٹھا رکھتے ہیں

 

درِ خیمہ پہ کھڑے سوچ رہے ہیں سرور

ماں نے گر پوچھا کہ آغوش میں کیا رکھتے ہیں

 

وحشتِ دل نہ بڑھے عالمِ تنہائی میں

اس لئے قبر میں ہم خاکِ شفا رکھتے ہیں

 

فرشِ ماتم جو بچھاتے ہیں تو اس سے پہلے

فاطمہ کے لئے آنکھوں کو بچھا رکھتے ہیں

 

نوجواں سینے سے برچھی کو نکالا کیسے

ہائے کیا دولتِ تسلیم و رضا رکھتے ہیں

 

بس یہی اپنا ہے سرمایہ ہستی تسنیم

درمیانِ نفسِ بیم و رجا رکھتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

لکھتا ہی رہوں سیدِ کونین کی مدحت
مدینے کو جائیں یہ جی چاہتا ہے
کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
آئی نسیمِ کوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
احمدِ مرسل فخرِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم
واحسن منک لم ترقط عینی
شکر صد شکر کہ رہتی ہے مجھے یاد مدینہ
وہ کہ ہیں خیرالا نام
خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا

اشتہارات