منزلِ حق کی جستجو تم ہو

منزلِ حق کی جستجو تم ہو

ایک عالم کی آبرو تم ہو

 

گلشنِ صدق و آگہی کے امیں

مردِ مومن کی زندگی کا یقیں

 

عزم و ایماں کی بولتی تصویر

دینِ کامل کی آخری تحریر

 

قلبِ یزداں میں نورِ تابندہ

لوحِ ہستی پہ حرفِ رخشندہ

 

ظلم کی آندھیوں میں ابرِ کرم

جہل کی ظلمتوں میں نورِ حرم

 

تجھ کو اے شاہِ دیں ، ملا یہ مقام

تجھ سے روحِ ازل ہو ہمکلام

 

عشق میرا تیری وفا کا غلام

اے بقائے حرم، فناؔ کا سلام

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ