منزل ملے بے حوصلۂ جاں نہیں دیکھا

منزل ملے بے حوصلۂ جاں نہیں دیکھا

ہوتے ہوئے ایسا تو کبھی ہاں نہیں دیکھا

 

غیر آئے گئے، پھول چنے، بو بھی اُڑائی

ہم ایسے کہ اپنا ہی گلستاں نہیں دیکھا

 

دامن بھی سلامت ہے، گریباں بھی سلامت

اے جوشِ جنوں تجھ کو نمایاں نہیں دیکھا

 

ہیں تیرے تسلط میں فضائیں بھی، زمیں بھی

تجھ میں ہی مگر ذوقِ سلیماں نہیں دیکھا

 

ہے چشمِ تصور بھی یہ درماندہ و عاجز

تجھ کو کبھی اے جلوۂ پنہاں نہیں دیکھا

 

احساسِ زیاں وائے کہ ہے رو بہ تنزل

کل تھا جو اسے آج پشیماں نہیں دیکھا

 

کتنے ہی سخن ور وَ سخن داں نظرؔ ایسے

جن کو کبھی محفل میں غزل خواں نہیں دیکھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

انتخاب 1988ء
نغمہ سرا ہوں میں بھی شہِ نامدار کا
روح کی بالیدگی اور دل کی فرحت کے لئے
سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں
نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
وہ بھی اب یاد کریں کس کو منانے نکلے؟
اس قدر تیر کمیں گاہِ جنوں سے نکلے
موند کر آنکھ اُن آنکھوں کی عبادت کی جائے