اردوئے معلیٰ

منفرد لہجہ جدا طرزِ بیاں رکھتے ہیں ہم

منفرد لہجہ جدا طرزِ بیاں رکھتے ہیں ہم

شاعری کے واسطے اردو زباں رکھتے ہیں ہم

 

یادِ جاناں میں گزرتے ہیں ہمارے روز و شب

اور کسی کی یاد کی فرصت کہاں رکھتے ہیں ہم

 

تو سن، عمرِ رواں تھوڑا بہت آہستہ چل

ہر قدم پر خواہشوں کا اک جہاں رکھتے ہیں ہم

 

کون کہتا ہے ہمارے ہاتھ خالی ہو گئے

ماں کی صورت میں متاعِ دو جہاں رکھتے ہیں ہم

 

زینتِ محفل بڑھانے کے لئے اے جان جاں

تیری یادوں کا دیا بھی درمیاں رکھتے ہیں ہم

 

آسمان غم کا سورج ہم کو کیا جھلسائے گا

تیری الفت کا جو سر پر سائباں رکھتے ہیں ہم

 

پیش ظالم جرأت اظہار حق ہوتی نہیں

ظاہراََ رکھنے کو بس منہ میں زباں رکھتے ہیں ہم

 

کیا ہوا نوری اگر یہ جسم بوڑھا ہو گیا

جذبۂ عشق و محبت تو جواں رکھتے ہیں ہم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ