منقبت سیّدنا ابی طالب : صبر کی انتہا ہے سجدے میں

 

صبر کی انتہا ہے سجدے میں

خونِ ناحق بہا ہے سجدے میں

 

حملہ آور ہوا کوئی ملعون

اور علی مرتضیٰؓ ہے سجدے میں

 

مسجدِ کوفہ بن گئی مقتل

فخرِ خیرالوریٰ ہے سجدے میں

 

بزدلی دیکھ ابنِ ملجم کی

میرا شیرِ خدا ہے سجدے میں

 

قدسیوں نے کہا گواہی میں

اوجِ صبر و رضا ہے سجدے میں

 

آفتابِ کمالِ ہستی آج

روبروئے خدا ہے سجدے میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بدل یا فرد جو کامل ہے یا غوث
فخر تاج سلطاں ہے جب نعال کرمانی
سجدہ حسین نے جو سرِ کربلا کیا
اِک شخص میں ہر وصف تھا
مظہر شاہ مدینہ ، جلوۂ پروردگار
تو قرار جان بتول ہے تری ذات جلوۂ حیدری
کچھ بھی ہوں میں بُرا یا بھلا ہے کرم
درود اُنؐ پر جو انتخاب اور پسند رب کی
وہ ذرا انتظار کر لیتا
کچی عمر کی چاہت