منقبت ہے سیرتِ سرور کی تابندہ کرن

منقبت ہے سیرتِ سرور کی تابندہ کرن

جو سفر کرتی ہوئی پہنچی شفیق احمدؒ تلک

 

یعنی وہ ہستی نظر نے جس کی اس دنیا میں بھی

خوب دیکھی لمحہ لمحہ ماہِ طیبہ کی جھلک

 

اہلِ دنیا جس کے سب اعمال میں پاتے رہے

سیرتِ گُل ہائے آقا کی بہر لحظہ مہک

 

پھر انہیں آقا نے اپنے قرب میں بخشی جگہ

سو رہے ہیں جو بقیعِ پاک میں اب بے دھڑک

 

دیکھتے ہوں گے وہ جلوہ سیدِ کونین کا

مستقل بھی اور مسلسل بھی، بِنَا جھپکے پلک

 

جن پہ فیضِ سیدالکونین سے صبح و مسا

کر رہا ہے نور کی بارش مسلسل ہی فلک

 

شفقت و مہرِ شفیقِؒ مہرباں کیا ہوں رقم

کر نہیں سکتا قلم تصویر، یادوں کی کسک

 

ان کی شفقت یاد آ جائے تو پاتی ہی نہیں

زندگی کی کچھ حرارت، میری آہِ گرم تک

 

بس یہی احساس ہے، ہر شے ہی مجھ سے چھن گئی

آپ کے جاتے ہی اس دنیا سے دارالخلد تک

 

دل پہ انؒ کی یاد کا سایہ ہے، پر لگتا ہے یوں

جیسے کوئی زخمِ فرقت پر چھڑکتا ہو نمک

 

میں عزیزؔ احسن کروں گر نذر روحِ شاعری

آ نہیں سکتی ہے احساسات کی ادنیٰ جھلک

 

منقبت حضرت شفیق الملت،قاضی شفیق احمد فاروقی مدنی رحمۃ اللہ علیہ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

منقبت: (خلیفۂ دوم)دلِ بے تاب ہوا چشم زدن میں پُر تاب
حسینؑ! تیرے لہو سے ہے تربتر صحرا
اے کریم بنِ کریم اے رہنما اے مقتدا
ہوائے ظلم سر کربلا چلی کیا ہے
چلا ہے شان سے کربل ، جگر حسینؓ کا ہے
شاہ نواب ملا جس کو غسالہ تیرا
شاہِ نواب کا گدا ہونا
ذرّہ ذرّہ مصطفی سے چاہتا ہے روشنی
غایتِ بزمِ کن فکاں رونقِ محفلِ حیات
بنیاد پرست

اشتہارات