اردوئے معلیٰ

سیاہ ریشم کا بے شکن ملبوس ، سنگِ مرمر سی دودھیا رنگت
سرو کے پیڑ کی طرح قامت ، آنکھ میں جھلملاہٹیں روشن
موت اک سوگوار دوشیزہ
اپنی آفاقیت بھری آنکھیں میرے چہرے پہ مرتکز کر کے
اپنے سرگوشیوں سے لہجے میں مجھ سے یوں ہمکلام ہوتی ہے
” ائے کہ شاعر حسین لفظوں کے ، ائے مصور اداس رنگوں کے،
ائے فسانہ نویسِ احساسات،
شاعری کی تو کس کی داد ملی ؟
کون سا نقش دائمی ٹھہرا؟
کس فسانے کا کوئی بھی کردار کب سرِ بامِ زندگی اترا؟
عشق کرنے چلے تو گھر کھویا ، در بدر ہو گئے سفر کرتے
کون پہنچا ترے تخیل تک ؟ مدتیں ہو گئیں بسر کرتے
زندگی اک کھلنڈری لڑکی ،
جس کی ہر اک ادا کے ہردے سے ایک ناپختگی ٹپکتی ہے
اس کو دل توڑنا شرارت ہے ، وہ جو بچھڑے تو کھلکھلاتی ہے
بات حتمی کبھی نہیں کوئی
روز مفہوم یوں بدلتی ہے جس طرح پیرہن بدلتے ہیں
خوبروئی حدود سے بڑھ کر ، رخ پہ غازہ لبوں پہ پھول مگر
صرف سطحی جمال کی حد تک
اس قدر عامیانہ طرزِ عمل ، کہ کوئی مستقل رفیق نہیں
رنگ اتنے کہ فرق مشکل ہے جیسے شو کیس کی سجاوٹ ہو
حسن ایسا کہ اشتہار بنے ، جیسے مغرب کی کوئی رقاصہ
وہ تو ہر فیصلے کے بعد سدا ایک ترمیم میں الجھتی ہے
زندگی کو پکارنے والے وہ ترے شعر کب سمجھتی ہے؟”
موت کی سیہ بلور آنکھوں میں ایک موہوم جھلملاہٹ ہے
اس کے نرم و گداز ہونٹوں پر ، ایک محزون مسکراہٹ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات