موت کا سر پہ تاج لینا ہے

موت کا سر پہ تاج لینا ہے

زندگی سے خراج لینا ہے

 

وہ سخی ہے نواز دے شاید

بے کلی کا علاج لینا ہے

 

تجھ لئے دل تو کیا ہے جاں حاضر

کر ذرا احتجاج لینا ہے

 

آنکھ اُکتا گئی اندھیروں سے

روشنی کو رواج لینا ہے

 

کل کا کیا اعتبار ہے اشعرؔ

جو بھی لینا ہے آج لینا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ