اردوئے معلیٰ

موسم کہ خوشگوار زِ باران و باد ہے

دل محوِ نعتِ خواجۂ فرخ نہاد ہے

 

وہ جامع الصفات قریشی نژاد ہے

پیکر ہے رحمتوں کا رقیق الفؤاد ہے

 

بالغ نظر ہے مانعِ بغض و عناد ہے

شمشیرِ حق ہے قاطعِ ظلم و فساد ہے

 

سالار ہے جری ہے امیر الجہاد ہے

پاؤں میں اس کے تاجِ سرِ کیقباد ہے

 

اس کے سخن سخن پہ مجھے اعتماد ہے

وحی خدا سے چونکہ وہ سب مستفاد ہے

 

سرخیلِ انبیاء ہے وہ ختم الرسل ہے وہ

در زمرۂ عباد وہ خیر العباد ہے

 

شمعِ ہدیٰ ہے اس کی ہدایت کا دائرہ

ممتد ہے اور تا سرِ یوم التُناد ہے

 

حبلِ متیں میانۂ مخلوق و رب ہے وہ

آوازِ حق ہے وہ عَلمِ اتحاد ہے

 

صورت حسیں ہے اس کی تو سیرت حسین تر

فضلِ خدا سے دونوں طرح با مراد ہے

 

آقا نہ جانے اب یہ مسلماں کو کیا ہوا

مسلک تھا جس کا امن وہ گرمِ فساد ہے

 

تحقیق و جستجو ہے نہ قرآں میں کاوشیں

مدت ہوئی کے بند درِ اجتہاد ہے

 

تجھ کو تری کتابِ مقدس کا واسطہ

امت پہ پھر کرم ہو کہ اب بد نہاد ہے

 

شہروں میں ایک شہر مدینہ بھی تھا مگر

اب تیرے دم قدم سے عروس البلاد ہے

 

اٹھ کر میں آستاں سے تمہارے نہ جاؤں گا

جب تک کہ روح و تن کا مرے اتحاد ہے

 

ہے فالِ نیک حق میں اسی خاکسار کے

امت میں آپ کی نظرِؔ کم سواد ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات