موسم کے ساتھ ساتھ ہی تُو بھی بدل گیا

موسم کے ساتھ ساتھ ہی تُو بھی بدل گیا

تنہائیوں کا جشن منانا پڑا ہمیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ھر چیز مُشترک تھی ھماری سوائے نام
دیکھنا یار! مِرا پیار تماشہ نہ بنے
گلی سے ہجر گُذرا ہے یقیناََ
میں دن ہوں ، ڈھونڈتا رہتا ہوں شام تک اس کو
بدن پر بار ہے پھولوں کا سایہ
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشہ ہے
باقی نقصان تو ٹھوکر میں پڑے رہتے ہیں
ایک اس پھول کے نہ ہونے سے
مکتب میں ایک عمر گزرنے کے باوجود
یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے

اشتہارات