اردوئے معلیٰ

موند کر آنکھ اُن آنکھوں کی عبادت کی جائے

موند کر آنکھ اُن آنکھوں کی عبادت کی جائے

شام دنیا کے جھمیلوں میں نہ غارت کی جائے

 

تیرے پَیروں سے ہی اُٹھتا نہیں ماتھا میرا

کس کو فُرصت کہ ترے ہاتھ پہ بیعت کی جائے

 

!تیری بات اور ہے، اے مجھ کو ستانے والے

تُو زمانہ تو نہیں ہے کہ شکایت کی جائے

 

مصحفِ عشق میں آیا ہے کئی بار یہ حکم

درد کا شکر کیا جائے ، دوا مت کی جائے

 

چھاگلیں دو ہیں فقط ہجر کے صحرا کے لیے

سو یہ لازم ہے کہ اشکوں میں کفایت کی جائے

 

صبر مشکل ہے مگر اتنا سمجھ لے فارس

کچھ نہیں ملتا اگر عشق میں عجلت کی جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ