موند کر آنکھ اُن آنکھوں کی عبادت کی جائے

موند کر آنکھ اُن آنکھوں کی عبادت کی جائے

شام دنیا کے جھمیلوں میں نہ غارت کی جائے

 

تیرے پَیروں سے ہی اُٹھتا نہیں ماتھا میرا

کس کو فُرصت کہ ترے ہاتھ پہ بیعت کی جائے

 

!تیری بات اور ہے، اے مجھ کو ستانے والے

تُو زمانہ تو نہیں ہے کہ شکایت کی جائے

 

مصحفِ عشق میں آیا ہے کئی بار یہ حکم

درد کا شکر کیا جائے ، دوا مت کی جائے

 

چھاگلیں دو ہیں فقط ہجر کے صحرا کے لیے

سو یہ لازم ہے کہ اشکوں میں کفایت کی جائے

 

صبر مشکل ہے مگر اتنا سمجھ لے فارس

کچھ نہیں ملتا اگر عشق میں عجلت کی جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے
ہے چُبھن مستقل قرار کے ساتھ
ترے بِن گھڑیاں گِنی ھیں رات دن
ایسے نحیف شخص کی طاقت سے خوف کھا
طاقِ نسیاں سے اُتر ، یاد کے دالان میں آ
ڈھول کی تھاپ پر کہی گئی ایک نظم
مگر پھر ایک دن اُس سے مِلا میں
جو رہے یوں ہی غم کے مارے ہم
چاہے آباد ہوں، چاہے برباد ہوں، ہم کریں گے دعائیں تمھارے لئے
کوئی نہیں ھے یہاں جیسا خُوبرُو تُو ھے

اشتہارات