مَنّت مانی جائے؟ یا کہ دم کروایا جا سکتا ہے؟

مَنّت مانی جائے؟ یا کہ دم کروایا جا سکتا ہے؟

ربّا ! میرے سَر سے کیسے عِشق کا سایہ جا سکتا ہے؟

 

میں تو پیار میں داؤ سے پہلے بھی اِتنا جانتا تھا کہ

اِس بازی میں سارے کا سارا سَرمایہ جا سکتا ہے

 

سُن اے پگلی! دُنیا میں عِزّت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا

لیکن تیری خاطر تو یہ سب ٹُھکرایا جا سکتا ہے

 

ہونٹ سے ہونٹ مِلا کر پُھونکو، تو ہم سے بے نبضوں کی

سانسیں جاری ہو سکتی ہیں، دِل دھڑکایا جا سکتا ہے

 

میرے عِشق کے جِن چڑھتے ہیں اُس کو ، تو وہ کہتی ہے

ہاں مجھ کو تڑپاؤ جِتنا بھی تڑپایا جا سکتا ہے

 

دیکھو دِل دینے کے قابِل تم مَت سمجھو پر کم از کم

اِس قابل تو ہُوں کہ مُجھ سے دِل بہلا یا جا سکتا ہے

 

اب تم میرے کام آئے تو، اگلی بار میں کام آؤں گا

پیار کے کھیل میں اِک دُوجے کا ہاتھ بٹایا جا سکتا ہے

 

فتویٰ دو کہ جو برسوں سے بِچھڑے یار کو روتی ہو

ایسی عِدّت کے بارے میں کیا فرمایا جا سکتا ہے؟

 

بابُو! یہ ہے پیار، یہ کوئی عام نِکاح سی چیز نہیں

کہ اِک ٹُوٹا تو اُس پر اِک اور پڑھایا جا سکتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ