اردوئے معلیٰ

مَیں مدینے میں ہُوں اور میرا گماں مجھ میں ہے

ایک لمحے کو لگا سارا جہاں مجھ میں ہے

 

پورا منظر ہے کسی اور تناظر میں رواں

وہ جو تھا پہلے نہاں اب وہ عیاں مجھ میں ہے

 

سامنے ُگنبدِ خضریٰ کے کھڑے سوچتا ہُوں

آسماں زاد کوئی خواب رواں مجھ میں ہے

 

حرف کے چہرۂ ادراک پہ آنکھیں بن کر

کوئی آواز پسِ صوتِ نہاں مجھ میں ہے

 

وقت کی موج میں صدیوں سے ہیں نبضیں ساکت

مَیں نہیں ہوں پہ کوئی رفتہ زماں مجھ میں ہے

 

جیسے اِک نور نے رکھا ہے مجھے غور طلب

جیسے خوشبو میں بسا شوخ سماں مجھ میں ہے

 

مجھ کو قدمین میں مقصودِؔ جہاں رکھ لیجے

حوصلہ لوٹ کے جانے کا کہاں مجھ میں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات