اردوئے معلیٰ

مَیں کم طلب ہوں پہ شانِ عطا تو کم نہیں ہے

مَیں کم طلب ہوں پہ شانِ عطا تو کم نہیں ہے

حضور آپ کے ہوتے ذرا بھی غم نہیں ہے

 

وہ جاں نہیں جِسے حاصل نہیں خرام ترا

وہ دِل نہیں جو تری بارگہ میں خَم نہیں ہے

 

جو تیری مدح نہ کرتی ہو وہ زباں کیسی

جو تیری نعت نہ لکھتا ہو وہ قلم نہیں ہے

 

بقیع و روضہ پہ موقوف کیوں کہ شہرِ نبی

تمام رشکِ اِرَم ہے فقط اِرَم نہیں ہے

 

جوارِ گنبدِ خضریٰ کبوتروں کا ہجوم

کچھ اِس طرح کا تو منظر کہیں بہم نہیں ہے

 

ہے کون ایسا کہ محتاج جو نہیں تیرا

ہے کون ایسا کہ جس پر ترا کرم نہیں ہے

 

اُس ایک اِسم کی تسبیحِ دم بدم ہے حیات

اُس ایک اِسم کے مابعد کچھ رقم نہیں ہے

 

اُس ایک در کا بنائے رکھا مجھے مقصودؔ

غلام زادے کی نسبت میں کوئی خَم نہیں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ