اردوئے معلیٰ

مَیں ہُوں کیا ، کیا مرا گفتہ ، مرے والی وارث

مَیں ہُوں کیا ، کیا مرا گفتہ ، مرے والی وارث

لایا ہُوں حرفِ شکستہ ، مرے والی وارث

 

طُرفہ انداز سے یہ خُلد مکانی ہو رواں

سامنے ہوں دمِ رفتہ ، مرے والی وارث

 

دید کی ساعتِ بیدار سے تاباں کر دے

کہ مرا بخت ہے خفتہ ، مرے والی وارث

 

چُپ کی دہلیز پہ ہے سجدہ کناں حرفِ طلب

نعت ہے بر لبِ بستہ ، مرے والی وارث

 

میرا ہر کام ہے جیسے کہ کوئی نقصِ عمل

میری ہر بات ہے خستہ ، مرے والی وارث

 

ایک عرضی ہے مدینے کے سفر کی آقا

ایک خواہش ہے نہفتہ ، مرے والی وارث

 

کیا کریں یہ مری چشمانِ طلَب زاد یہاں

کیا کہے یہ دلِ کُشتہ ، مرے والی وارث

 

جس کی تاثیر سے قائم ہے چمن زارِ سخن

ہے ترا لہجۂ شستہ ، مرے والی وارث

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ