مُہر غلامی کی میں پاؤں گا مدینے سے

مُہر غلامی کی میں پاؤں گا مدینے سے

میں بن کے آؤں گا انساں نیا مدینے سے

 

جو عطر ہے وہ پسینہ مرے حضورؐ کا ہے

گلوں نے رنگ لیا تو لیا مدینے سے

 

مرے کریم نے اس طرح مہربانی کی

سو اذن نعت کا مجھ کو ملا مدینے سے

 

بروزِ حشر مری جب تلاش کی جائے

خدا کرے کہ ملے یہ گدا مدینے سے

 

ندا یہ آئی جو پہلو میں دل کو ڈھونڈا تو

میں ہو کے آیا ٹھہر بس ذرا مدینے سے

 

مجھے گماں ہے میں جنت تلک ہوں آ پہنچا

مجھے جو ڈھونڈو اٹھاؤ کُھرا مدینے سے

 

اِدھر اُدھر نہ بھٹک عشق کا مرض لے کر

کہ دردِ دل کی ملے گی شِفا مدینے سے

 

یہ جسم ہے تو ہے گنتی کے کچھ برس زندہ

ملے گی روح کی تم کو بقا مدینے سے

 

خدا ملے گا رسولِ خدا کی نسبت سے

بہشت جاؤں گا ہو کر عطا مدینے سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شکرِ خدا کے آج گھڑی اُس سفر کی ہے
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولﷺ
بنے ہیں دونوں جہاں شاہِ دوسرا کے لیے
بارگاہ پاک میں پہنچے ثنا کرتے ہوئے
جب تصور میں کبھی گنبد ِ خضراء دیکھوں
ہر شئے میں تیرے نور کا جلوہ ہے یا نبی
رات دے سارے حمیتی زرد پیلے ہوگئے
اگرچہ چشمِ ارادت نظر کنی صاحبؔ
کوئی ان کے بعد نبی ہوا ؟نہیں ان کے بعد کوئی نہیں